Presmurdu - Pakistani Urdu Forum | urdu shayari | Urdu Islam | Design Urdu Poetry
Aslam-O-Alekum
mhotram guest ager ap www.presmurdu.com k member hain tu yahan sa login hun....
ager ap member nahi hain tu yahan sa ap humara es forum ma Register ho sakta hain.......




















Share
View previous topicGo downView next topic
avatar
Super Member
Super Member
Fine
User Title
Posts Posts : 616
Rep Points Rep Points : 852
Thanks Thanks : 8
Age Age : 27
150 / 999150 / 999
0 / 1500 / 150
Gender : Male
View user profile

default غلط فهمي-2

on Tue Nov 15, 2011 3:59 pm
Ab Aage Parhiye



اس لیے صمام نے انہیں خود تک ہی محدود رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بھائی سے ہونے والی آخری تلخی آمیز ملاقات کے بعد عطیہ

بیگم نے واشگاف انداز میں صمام پر واضح کردیا تھا کہ جب تک یہ معلوم نہیں ہوتا کہ رائنہ اپنے والدین کی جائز اولاد ہے اور اس کی فرنچ ماں نے باقاعدہ اسلام قبول کرکے اسلامی طریقے سے عزیز خان سے نکاح کیا تھا۔ اس وقت تک رائنہ ان کی بہو نہیں بن سکتی۔ انہیں یہ کسی صورت قبول نہیں تھا کہ ایک ناجائز لڑکی ان کی بہو بنے۔ کوشش کے باوجود صمام اپنی ماں کے سامنے رائنہ کے حق میں کوئی دلیل نہیں دے سکا تھا۔ ماں کے سامنے وہ ایسے ہی کمزور پڑجاتا تھا۔
ماں نے اسے اس بارے میں رائنہ سے واضح بات کرنے کے لیے کہا تھا کہ وہ اپنے باپ سے اپنی ماں اور ان کی شادی کا بیک گرائونڈ معلوم کرے۔ صمام کو بھی یہ بات مناسب ہی معلوم ہوئی تھی آخر ایسا کیا تھا جسے ماموں نے اب تک چھپایا تھا۔ اگر سارے معاملات ہی جائز طریقے سے ہوئے تو انہیں بتادینا چاہیے۔ آخر ان کی اکلوتی بیٹی کی ساری زندگی کامعاملہ تھا۔
صمام کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا اور آج رائنہ نے خود ہی اسے موقع فراہم کردیا تھا۔ اس کی ذہنی کیفیت سے بے خبر رائنہ کہہ رہی تھی۔
’’آج کل عائزہ بی بی کو بڑے پھوپو کی خدمت کا بھوت چڑھا ہوا ہے۔‘‘ اس کا لہجہ تلخ ہوا تھا۔ ’’موصوفہ زیادہ تر تمہارے گھر پائی جاتی ہیں۔ بڑی پھوپو اس پر صدقے واری ہورہی ہیں۔‘‘
’’کچھ جلنے کی بُو آرہی ہے۔‘‘ تمام تر سنگینی کے باوجود صمام باز نہیں آیا تھا۔
رائنہ نے اس کے کندھے پر مکا مارا۔ ’’تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کوئی کھچڑی ضرور پک رہی ہے۔ میرا دل کہتا ہے ہمیں جدا کرنے کی کوئی سازش بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔‘‘ آخر میں وہ روہانسی سی ہوگئی۔
صمام نے ایک دفعہ پھر اس کا ہاتھ تھام لیا اور اس کی گہری سبز آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
’’ایسی کی تیسی سازشیں کرنے والوں کی۔‘‘ محبت نے اس کے لہجے کو بڑا پُر یقین بنادیا تھا۔
وہ ہلکی پھلکی سی ہوگئی۔ اس کا دوسرا ہاتھ خود بخود صمام کے ہاتھ پر چلا گیا تھا۔وہ کچھ دیر بے خودی کی سی کیفیت میں رہے۔ ہاتھوں کا لمس ہمیشہ ساتھ نبھانے کا وعدہ کررہا تھا۔ واپسی پر رائنہ نے بات چھیڑی۔
’’تم پھوپو کو میرے گھر بھیجو نا۔‘‘
’’کس لیے؟‘‘ صمام نے اَن جان بن کر اسے چھیڑا۔
’’مجھے جوتے لگانے کے لیے کہ میں نے تمہیں دل کیوں دیا؟‘‘
اس کے اس جلے کٹے انداز پر صمام کھلکھلا کر ہنس دیا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا۔ پھر رائنہ بھی ا س کی ہنسی میں شامل ہوگئی۔ کچھ دیر بعد صمام نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔
’’مما کو تو میں بھیج دوں گا مگر پہلے تم ماموں سے بات کرو۔‘‘
’’میں کیا بات کروں؟‘‘ رائنہ نے جز بز ہوکر کہا۔
’’میرا مطلب ہے، پہلے تم انہیں مجبور کرو کہ وہ تمہاری مما کے بارے میں زبان کھول دیں۔‘‘ رائنہ نے زخمی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ صمام نے فوراً ہی اس کی نظروں کامفہوم سمجھ لیا۔
’’دیکھو! میری بات کو کسی غلط رُخ سے نہ دیکھو۔ تمہیں‘ مجھے اور باقی خاندان کو بھی تو تمہاری مما کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔ آخر ایسا کیا ہے جو ماموں اس بارے میں کچھ بتانے کے لیے رضامند نہیں ہیں؟‘‘
’’مجھے، خود کو اور خاندان کو درمیان نہ لائو۔‘‘رائنہ کا انداز سرد ہوگیا تھا۔ ’’اس بارے میں تمام تر دلچسپی اور کھوج تمہاری مما کوہے اور اس دلچسپی کے پس منظر سے تم بھی شاید واقف ہوگے۔‘‘ دل میں چھپی بات آخر رائنہ کی زبان پر آگئی تھی۔
صمام نے گہرا سانس لیا۔ ایک دفعہ تو جی چاہا کہ رائنہ کو اپنی مما کی دلچسپی کے پس منظر سے آگاہ کردے۔ اس نے بمشکل خود کو روکا۔ مگر رائنہ کو مطمئن کرنا بھی ضروری تھا۔ اس نے نرم الفاظ تراش کر کہا۔
’’تمہارا اندازہ درست ہے۔‘‘ اس نے ونڈ اسکرین کے پار نظریں جمائیں۔ رائنہ کی نظریں بھی سامنے سڑک پر تھیں۔ چند ہی لمحوں میں ان کے درمیان تنائو کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ جس کے سبب وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے سے بھی گریزاں تھے۔صمام نے سلسلہ کلام جوڑا۔
’’تمہیں بخوبی معلوم ہے میری مما خاندانی شرافت و نجابت کو اچھی خاصی اہمیت دیتی ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ تمہاری مما کے بیک گرائونڈ کے بارے میں جاننا چاہتی ہیں۔‘‘ رائنہ کو اپنے حلق میں کڑواہٹ سی گھلتی محسوس ہوئی مگر وہ بولی کچھ نہیں۔ صمام چند لمحے اس کے بولنے کا منتظر رہا۔ پھر دل کڑا کرکے اس نے کہا۔
اس کے علاوہ وہ یہ بھی جاننا چاہتی ہیں کہ تمہاری مما نے اسلام قبول کیا تھا اور شادی اسلامی طریقے سے ہوئی تھی؟‘‘
رائنہ کو محسوس ہوا کہ وہ جیسے زلزلے کی زد میں آگئی ہے۔ سگی پھوپو اس کی شخصیت کے تمام مثبت پہلوئوں کو نظر انداز کرکے گڑھے مردے اکھاڑنے پر تُل گئی تھیں۔
اس کی ذہانت و معاملہ فہمی اسے باور کرا رہی تھی کہ صمام نے نرم الفاظ کا سہارا لیا تھا۔ یقینا پھوپو کے الفاظ و خیالات زیادہ سخت ہوںگے۔ اس کا دل جلنے لگا مگر آنکھیں خشک ہی رہیں۔ وہ بوجھل انداز میں بولی۔
صاف کہو پھوپو یہ جاننا چاہتی ہیں کہ کہیں میں اپنے والدین کی ناجائز اولاد تو نہیں ہوں۔‘‘
’’تم جذباتی ہورہی ہو۔‘‘ صمام بوکھلا گیا۔ ’’مما نے ایسا کچھ نہیں کہا۔‘‘ اس نے جھوٹ کا سہارا لیا۔
رائنہ نے سیٹ کے پشتے کے ساتھ سر ٹکادیا۔ آج اسے اپنا وجود بے معنی محسوس ہورہا تھا۔ صدیوں کی تھکن جیسے اس کے چہرے پر اُتر آئی تھی۔ آنکھیں موندتے ہوئے وہ ایک فیصلے پر پہنچ گئی۔
’’فرض کرو اگر میں واقعی ناجائز ہوئی تو تمہاری مما اور خاص طور پر تمہارا فیصلہ کیا ہوگا۔‘‘ اس نے بڑے گمبھیر انداز میں کہتے ہوئے صمام کو ایک دوراہے کی طرف دھکیل دیا تھا۔
صمام کی پیشانی پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے۔
’’خود کو سنبھالو رائنہ! تم ضرورت سے زیادہ جذباتی ہورہی ہو۔ تمہارا رویہ تباہ کن ہے۔‘‘ رائنہ کا سوال اس نے نظرا نداز کردیا تھا۔
’’میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے صمام۔‘‘ رائنہ نے بے حد ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا۔
صمام کا رنگ اُڑ گیا تھا۔ ماں کے سامنے کھڑے ہونے کے خیال سے اس کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں۔ اس نے پھنسی پھنسی آواز میں کہا۔
’’میں مما کو منالوں گا۔‘‘
رائنہ ہذیانی انداز میں ہنسی۔ ’’مجھے یقین ہے۔ ورنہ تمہاری مما تمہیں تو مناہی لیں گی۔‘‘ اس کا گھر نزدیک آگیا تھا۔ اس کے کہنے پر صمام نے گاڑی روک دی تھی۔
رائنہ گاڑی سے اُتر گئی تھی۔ صمام نے اسے آوازیں دیں مگر وہ رُکی نہیں۔ آنسو بڑی تیزی سے یلغار کررہے تھے۔ صمام کے کمزور انداز نے اسے توڑ دیا تھا۔ وہ توصمام سے چٹانوں سے ٹکرا جانے والے عزم کی امید لگائے ہوئے تھی۔ مگر ان لمحوں میں وہ بھول گئی تھی کہ صمام کتنا اپنی مما کے اثر میں ہے۔
صمام اس کے پیچھے ہی آگیاتھا۔ رائنہ نے خود کو اپنے کمرے میں بند کرلیا۔ وہ صمام کے سامنے آنسو بہانا نہیں چاہتی تھی۔ اس کے پندار محبت کو زبردست ٹھیس پہنچی تھی۔ صمام اسے پکارتا ہی رہ گیا پھر اس کی آواز میں عطا بابا کی آواز بھی شامل ہوگئی۔ مگر وہ تکیے میں منہ چھپائے روتی رہی۔ جب دستک اور پکارنے کی آوازیں بند نا ہوئیں تو اس نے ہذیانی انداز میں چلّا چلّا کر صمام کو چلے جانے کے لیے کہا۔ پھر غالباً عطا بابا صمام کو وہاں سے ہٹا کر لے گئے تھے۔
اگلے کئی دن تک وہ خود ترسی کی سی کیفیت میں رہی۔ صمام نے اس سے ملنے کی ہر ممکن کوشش کی۔مگر رائنہ اسے دیکھتے ہی کمرے میں بند ہوجاتی تھی۔ اس نے گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ وہ سوچتی تھی کہ اگر وہ واقعی ناجائز اولاد تھی تو اس میں اس کا کیا قصور تھا۔ اس بات کے ذمہ دار تو اس کے والدین تھے۔
اسے ساری دنیا سے نفرت سی ہوگئی تھی۔ باپ سے، پھوپو سے، صمام… حتیٰ کہ اپنے وجود سے بھی۔ اس نے اپنا خیال تک رکھنا چھوڑ دیا تھا۔
عطا بابااس کی حالت دیکھ کر بے حد پریشان تھے۔ صمام کی زبانی انہیں سب کچھ معلوم ہوچکا تھا۔ عزیز خان کا روزانہ ہی کسی وقت فون آجاتا تھا۔ رائنہ فون پر خود کو نارمل ظاہر کرتی تھی۔ عطا بابا کا بھی یہی حال تھا۔ عزیز خان دمے کے مریض تھے اور ذہنی دبائو یا پریشانی دمے کے حملے کا باعث بن سکتی تھی۔
عزیز خان کی واپسی تک رائنہ نے خود کو خاصا سنبھال لیا۔ صمام کے ساتھ بھی اس کا رویہ نارمل ہوگیا۔ اپنے طور پر خود کو ناجائز اولاد سمجھ لینا مناسب نہیںتھا۔ اصل بات تو اس کے پاپا جانی جانتے تھے اور وہ ان سے بات کرنے کا مصمم ارادہ کرچکی تھی۔
دس محرم گزار کہ عزیز خان واپس پاکستان آچکے تھے۔اگلے دن شام کو جب کہ وہ اور رائنہ ٹی وی لائونج میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ رائنہ نے ان کے گھٹنے پر سر رکھ دیا۔
عزیز خان کا شفقت بھرا ہاتھ اس کے سر پر آٹکا۔ وہ صوفے پر گھٹنوں پر چادر پھیلائے بیٹھے تھے۔ جب کہ رائنہ قالین پر دھرے کشن پر بیٹھی تھی۔ رائنہ نے ریموٹ کے ذریعے ٹی وی آف کردیا اور دھیرے سے بولی۔
’’پاپا جانی! میں نے ایک بات پوچھنی تھی آپ سے۔‘‘
اس کے انداز نے عزیز خان کو چونکا دیا۔ ’’پوچھو بیٹا!‘‘ پھر وہ دھیرے سے ہنسے۔ ’’میرے بیٹے کا انداز آج اجازت لے کر پوچھنے والاکیوں ہے؟‘‘
’’بات ہی کچھ ایسی ہے پاپا جانی۔‘‘ رائنہ کا انداز خاصا گمبھیر تھا۔
اس دفعہ عزیز خان کا دل لرزنے لگا۔ رائنہ کا یہ انداز اور عطیہ بیگم سے ہونے والی آخری ملاقات، انہیں ایک ہی سلسلے کی کڑیاں محسوس ہونے لگی تھیں۔ بہرحال وہ رائنہ کے بولنے کے منتظر تھے۔ چند لمحوں کی بوجھل خاموشی کے بعد رائنہ نے کہا۔
’’پاپاجانی! میں اپنی مما کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں۔‘‘ عزیز خان کے اعصاب میں ٹھنڈک اُتر آئی ان کی چھٹی حس کا اشارہ ٹھیک ہی تھا۔ رائنہ کہہ رہی تھی ’’وہ کون تھیں؟ آپ کی شادی ان سے کیسے ہوئی؟ ان کا کوئی فیملی بیک گرائونڈ؟ ان کی میں نے کبھی کوئی تصویر بھی نہیں دیکھی؟‘‘ اس نے باپ کے گھٹنے سے چہرہ رگڑتے ہوئے کہا۔ ’’ان کے بارے میں کچھ بتائیں پاپا جانی؟‘‘ اس کی آواز آنسوئوں سے بھیگ گئی تھی۔
عزیز خان جیسے پتھر کی مورتی میں تبدیل ہوگئے تھے۔ وہ سختی عود کر آئی تھی، جو رائنہ کی ماں کے متعلق استفسار کے ساتھ ہی ان کے جسم و جاں کو اپنی زبان بند رکھنے کی توانائی عطا کرتی تھی۔ ایک وعدے، بہت مضبوط عہد کی ناقابل شکست زنجیر ان کی زبان پر تالا لگا دیتی تھی۔ اس وقت بھی یہی ہوا۔ ان کا گداز دل جسم کے ساتھ ہی پتھر ہوگیا۔ وہ بولے۔
’’تم میری بیٹی ہو رائنہ!‘‘ ان کی زبان بھی سنگلاخ ہوگئی تھی۔ ’’صرف میری بیٹی۔ تمہاری ماں، تمہاری پیدائش کے بعد اس دنیا میں نہیں رہی تھیں۔ اب بھی میں انہی کی قبر پر پھول اور آنسو بکھیر کر آیا ہوں۔ تمہارے لیے اور جن کی زبان تمہارے منہ میں ہے۔ ان کے لیے اتنا جاننا کافی ہے کہ تم میری بیٹی ہو۔‘‘ پھر ان کا انداز فلسفیانہ ہوا۔ ’’جو لوگ گڑھے مردے اکھاڑتے ہیں۔ ان کے ہاتھ صرف خاک ہی آتی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے آہستگی سے رائنہ کا سر ہٹایا اور اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل دیئے۔ ان کے قدموں میں صدیوں کی تھکن تھی۔ رائنہ کے ساتھ یہ انداز اختیار کرتے ہوئے ان کا دل خون ہوگیا تھا۔ مگر کیا کرتے وہ مجبور تھے۔ ان کے سدا بہار زخموں سے تازہ خون رسنے لگا تھا۔ رائنہ اپنی جگہ گم صم اور خالی الذہنی کی کیفیت میں بیٹھی رہ گئی تھی۔ پاپاجانی پر جو اسے مان تھا وہ آج ٹوٹ گیا تھا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ پاپاجانی، اسے اس طرح جھٹک دیں گے۔ اسے تو یقین تھا کہ پاپا جانی اپنا ماضی کھول کر اس کے سامنے رکھ دیں گے اور اس کی مما کے بارے میں سب کچھ بتادیں گے۔ مگر اس کا یقین ریت کا گھروندا ثابت ہوا تھا۔
اس کی آنکھوں سے بے آواز آنسو بہنے لگے۔ کوئی چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا۔ وہ ناجائز اولاد ہے۔ اپنے والدین کی جوانی کی لغزش کا نتیجہ… اس لیے تو اس پر جاں نچھاور کرنے والے پاپا جانی کی زبان بند ہوگئی تھی اور انہوں نے اسے بھی کچھ نہیں بتایا تھا۔
وہ کرچی کرچی ہوگئی تھی۔ ایک دفعہ پھر اسے اپنا وجود بے معنی اور اس دفعہ تو قابلِ نفرت محسوس ہونے لگا تھا۔ وہ تیزی سے بکھرتی چلی گئی۔
اس دن کے بعد وہ بڑی تیزی سے سب سے دور ہوتی چلی گئی۔ پھوپیوں کے گھر جانا اس نے چھوڑ دیا۔ وہاں سے کوئی آجاتا تو رائنہ پوری کوشش کرتی تھی کہ اس کی ٹوٹ پھوٹ کو کوئی محسوس نہ کرسکے۔ مگر اس کی پوری شخصیت پر مرونی سی چھاگئی تھی۔ جسے سبھی محسوس کرتے تھے۔ پوچھ پوچھ کر ان کے منہ خشک ہوگئے تھے مگر رائنہ بڑے آرام سے ان کا وہم قرار دے دیتی تھی۔
حقیقت سے صرف صمام واقف تھا۔ رائنہ نے دوبارہ سے اسے نظر انداز کرنا شروع کردیا۔ وہ جان گئی تھی کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکتی۔ اس کے پاپا جانی، اس کی مما کے بارے میں کچھ بتائیں گے نہیں اور بڑی پھوپو مطمئن ہوئے بغیر کبھی بھی صمام اور اس کے رشتے پر رضامند نہیں ہوںگی۔ صمام سے بھی اسے زیادہ امید نہیں تھی۔ اسے بخوبی اندازہ تھا کہ وہ کبھی بھی اس کے حق میں ماں کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکے گا۔ پاپا جانی اور اس کے درمیان پیدا ہونے والی دراڑ تیزی سے بڑھتی چلی گئی۔ ایک غیر محسوس سا کھچائو تھا جو ان دونوں اور خاص طور پر رائنہ کو دو مخالف سمتوں میں کھینچ رہا تھا۔
رائنہ کا دل رفتہ رفتہ باپ کی طرف سے پتھر ہوتا جارہا تھا۔ رائنہ محسوس کرتی تھی۔ جیسے پاپا جانی تیزی سے بوڑھے ہوتے جارہے ہیں۔ کوئی دُکھ تھا جو انہیں تیزی سے کھا رہا تھا۔ رائنہ جانتی تھی کہ یہ دکھ اس کے رویے اور دوری کا ہے۔ جو ان باپ، بیٹی کے درمیان پیدا ہوگیا تھا۔ ان کی تیزی سے گھلتی صحت دیکھ کر کبھی کبھار رائنہ کا دل پگھلتا تھا مگر وہ خود کو آگے بڑھنے سے روک لیتی تھی۔ اپنے تئیں وہ اپنے باپ کو زبان بند رکھنے اور ناجائز اولاد پیدا کرنے کی سزا دے رہی تھی۔
باپ بیٹی کے درمیان ایک پل تھا عطا بابا، مگر وہ بھی شکستہ ہوگیا تھا۔ رائنہ نے ان کی بھی ایک نہیں چلنے دی تھی۔ رائنہ کے پتھر ہوجانے والے دل سے سر ٹکڑا ٹکڑا کر انہوں نے خود کو بھی زخم زخم کرلیا تھا۔
رائنہ کو شک ہوتا تھا کہ عطا بابا ان سارے سوالوں کے جوابات جانتے ہیں، جن کی اسے تلاش تھی مگر شاید وہ اس کے پاپا جانی کے سبب مجبور تھے۔
پھر ایک دن عطیہ پھوپو اس کے گھر آگئیں۔ رائنہ کو یقین نہیں آیا۔ بہت دنوں بعد دھڑکنوں کا آہنگ خوش گوار ہوا۔ شاید اس کی محبت نے صمام کو اپنی مما کے سامنے کھڑا ہونے کی طاقت عطا کی تھی۔ اس نے رائنہ کے حق میں دلائل دیئے تھے کہ اگر اس کی ماں کے بارے میں ماموں کچھ نہیں بتانا چاہتے تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اگر رائنہ ناجائز اولاد بھی ہے تو اس میں اس کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ اس کے کردار میں تو کوئی کمی نہیں۔ وہ تو شبنم کی طرح پاکیزہ اور موتیوں کی طرح شفاف دل و دماغ کی ہے۔ یہ سوچ کر رائنہ کی آنکھیں برسنے لگیں۔ عطیہ پھوپو، پاپا جانی کے کمرے میں تھیں۔ کچھ دنوں سے پاپا جانی کی طبیعت زیادہ ہی گری گری سی تھی، ان کا زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں ہی گزرتا تھا۔ رائنہ کوشش کے باوجود چھپ کر ان کی باتیں سننے سے خود کو باز نہ رکھ سکی۔ رائنہ کے کانوں میں عطیہ پھوپو کی تیز، نوکیلی اور ٹھوس آواز گونجی۔
’’عزیز! زندگی میں پہلی دفعہ کمزور انداز میں سہی مگر میرے بیٹے نے مجھ سے اختلاف کیا ہے۔ اس نے رُو کر مجھ سے رائنہ کو مانگا ہے، میں ماں ہوں، ڈائن نہیں۔ جو اپنے بچے کی خوشیوں کو کھا جائوں۔ میں رائنہ کو صمام کے لیے تم سے مانگنے آئی ہوں۔‘‘ ان کا انداز سوالی سے زیادہ احسان کرنے والا تھا۔
رائنہ کو اپنا وزن بڑھتا محسوس ہوا۔ بہتے آنسوئوں کے درمیان اسے بے پناہ طمانیت کا احساس ہوا۔ اس کی محبت نے واقعی اثردکھایا تھا۔ صمام اپنی مما کے سامنے کھڑا ہو ہی گیا تھا۔ عطیہ پھوپو کو آخر اپنی ضد چھوڑنی ہی پڑ گئی تھی۔ اس کے پاپا جانی کی کمزور سی آواز اُبھری۔
’’رائنہ تمہاری بیٹی ہے۔ جب چاہے آکر لے جائو۔‘‘
’’مت کہو اسے میری بیٹی۔‘‘ عطیہ پھوپو کی پھنکار نے رائنہ کے وجود سے جیسے روح کھینچ لی۔ ’’وہ تمہاری اور ایک فرنچ فاحشہ کی بیٹی ہے۔‘‘
’’عطیہ…!‘‘ اس کے پاپا جانی اتنی قوت سے چلائے تھے کہ ان پر کھانسی کا دورہ پڑ گیا تھا۔ رائنہ کا دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا۔
پاپا جانی نے کھانسی کے وقفوں کے درمیان کہا۔ ’’مت دو ایک عظیم عورت کو اتنی بڑی گالی۔ معافی مانگو اللہ سے،لاعلمی کے سبب تم نے بہت بڑا گناہ کیا ہے۔‘‘ رائنہ نے ان کے ہانپنے کی آواز سنی۔
عطیہ پھوپو نے زہریلے طنز سے کہا۔ ’’تم ختم کردو میری لاعلمی، بتادو کہ کون تھی وہ نیک پروین اور اس نے تمہاری شخصیت کے سحر کی بجائے اسلام کی آفاقی سچائی کے سبب قبول اسلام کرکے تم اسلامی طریقے سے شادی کی تھی۔‘‘
پاپا جانی کو چپ لگ گئی تھی۔ رائنہ کو ان کی یہ خاموشی زہر محسوس ہورہی تھی۔
’’چپ کیوں ہوگئے عزیز خان!‘‘ پھوپو عطیہ کی تمسخرانہ آواز اُبھری۔ ’’بتائو اور پھر دکھائو کوئی ثبوت، یقین کرو اس کے بعد میں تمہارے پائوں چُھو کر اپنے الفاظ کی معافی مانگوں گی۔ بولو… بولو… کیوں چپ ہو۔ سچے لوگوں کے سر تو تمہاری طرح جھکے نہیں ہوتے۔ توڑ دو آج یہ خود ساختہ خاموشی یا پھر تسلیم کرلو رائنہ تمہاری ناجائز اولاد ہے۔ تمہاری جوانی کی ایک بھول۔‘‘
’’تم زیادتی کررہی ہو عطیہ!‘‘ پاپا جانی کی کمزور سی آواز اُبھری۔ رائنہ کا دل چاہا کہ دیواروں سے اپنا سر پھوڑ لے۔انہیں کمزور پاکر عطیہ پھوپو اپنی بات پر ڈٹ گئی تھیں۔
’’جوانی کی بھول کو تسلیم کرلو عزیز! میں بیٹے کی خوشی کی خاطر ایک ناجائز لڑکی کو اپنی بہو بنالوں گی۔مگر شاید اسے اس کا حقیقی مقام نہ دے سکوں۔ مگر کم از کم تم میرا ذہن تو صاف کردو۔ حقیقت کو تو تسلیم کرلو۔‘‘ ان کے لہجے میں سراسر احساس برتری اور اَنا بول رہے تھے۔
رائنہ کو پاپا جانی پر بے طرح غصہ آرہا تھا۔ وہ بولتے کیوں نہیں… کیوں نہیں بولتے۔ پاپا جانی کی خاموشی پتھروں کا سینہ شق کردینے والی تھی۔ چند لمحوں بعد انہوں نے شکستہ سے انداز میں کہا۔
’’اس معصوم کو ناکردہ گناہوں کی سزا نہ دو عطیہ! اس کی ماں ایک مسلمان تھی۔ سچی اور کھری مسلمان۔ اس کے علاوہ مجھ سے اور کچھ نہ پوچھو۔‘‘ پاپا جانی بکھر رہے تھے۔
’’تو پھر کیا ہے؟ جسے تم چھپا رہے ہو؟‘‘ عطیہ پھوپو حقیقی معنوں میں الجھ گئی تھیں۔
پاپا جانی نے ایک دفعہ پھر خاموشی کی چادر اوڑھ لی تھی۔
عطیہ پھوپو کچھ دیر ان کے بولنے کی منتظر رہیں۔ پھر ان کے گہرا سانس لینے کی آواز سنائی دی۔

’’ٹھیک ہے عزیز! میں بیٹے کی خوشی کے لیے مجبور ہوں۔ مگر تم نے مجھے مطمئن کرنے کی بجائے مزید الجھا دیا ہے۔‘‘ پر ان کا انداز و ارن کرنے والا ہوگیا۔ ’’مگر میں اسے کبھی اس کا مقام نہیں دے پائوں گی، بعد میں کوئی گلا نہ کرنا۔‘‘ یہ کہہ کر غالباً وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ ’’صمام کو امریکن ویزا مل گیا ہے۔ اس کے جانے سے پہلے ان دونوں کی منگنی کردیتے ہیں۔ شادی صمام کی واپسی پر ہوگی۔‘‘
پاپا جانی نے شکست خوردہ انداز میں کہا۔ ’’تمہاری مرضی! میں بچی کو خدا کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ اس دوران رائنہ ایک قطعی فیصلے پر پہنچ گئی تھی۔ اس کے مجرم کا بھی حتمی تعین ہوگیا تھا۔ہاں! اس کے پاپا جانی ہی اس کے واحد مجرم تھے۔جن کی زبان پر لگے تالے کھلنے میں نہیں آرہے تھے۔
عطیہ پھوپو کے جانے کے بعد پاپا جانی نے رائنہ کو اپنے کمرے میں طلب کرلیا۔ عطا بابا نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے منت بھرے انداز میں کہا۔
’’وہ بہت ٹوٹے ہوئے ہیں۔ انہیں تمہاری ضرورت ہے رانی بیٹا!‘‘
’’آپ کو میری ٹوٹ پھوٹ کا بھی اندازہ ہے بابا؟‘‘ اس نے عطا بابا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔ ’’میری مما سے وابستہ آخر ایسا کیا راز ہے جو وہ چھپائے بیٹھے ہیں۔‘‘
عطا بابا کی نگاہیں جھک گئیں۔
’’وہ بتا کیوں نہیں دیتے کہ میری مما کون تھی؟ یا یہ تسلیم کیوں نہیں کرلیتے کہ میں ان کی ناجائز اولاد ہوں۔‘‘ وہ ہذیانی انداز میں چیخی۔
عطا بابا نے پہلے زخمی اور پھر شکوہ انگیز انداز میں اس کی طرف دیکھا۔ مگر بولے کچھ نہیں۔
’’بس، آپ کو بھی چپ لگ گئی نا۔‘‘ رائنہ کے لہجے میں زہریلا تمسخر در آیا تھا۔ اس کی آنکھیں جلنے لگی تھیں۔ ایسا کئی دنوں سے ہورہا تھا۔ شاید رو رو کر آنسوئوں کے سوتے خشک ہوگئے تھے۔ اس لیے آنسوئوں کی بجائے اب آنکھوں میں جلن اُتر آئی تھی۔
وہ پاپا جانی کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئی۔ عطا بابا باہر ہی رہ گئے تھے۔
پاپا جانی بستر پر دراز سینے تک کمبل اُوڑھے ہوئے تھے۔ وہ برسوں کے بیمار نظر آرہے تھے۔ ان کی حلقوں میں اُتری ہوئی پیاسی اور یاسیت بھری نظریں رائنہ کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔
رائنہ کا دل گداز ہونے لگا۔ اس کا جی چاہا کہ پاپا جانی کے سینے پر سر رکھ کر اگر کچھ آنسو بچے ہیں تو بہا دے۔ دل بے اختیار ہونے لگا۔ اس سے پہلے کہ وہ مکمل بے اختیار ہوجاتی اس نے خود کو سنبھالا،دل کوزبردستی پتھر کرلیا اور خاموشی سے جاکر بیڈ کے قریب پڑی کرسی پر جاکر بیٹھی۔ دل میں ننھی سی امید جاگی کہ شاید وہ اس کی مما کے بارے میں کچھ بتادیں، ورنہ اس طلبی کا مقصد تو وہ خوب جانتی تھی۔
پاپا جانی نے دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر اپنے کمزور ہاتھ میں اس کا ہاتھ تھام لیااور دھیرے سے تمہید باندھی۔
’’آج تمہاری پھوپو عطیہ آئی تھیں۔‘‘
رائنہ خاموش رہی۔ معمولی سی امید کر کرن بجھ گئی تھی۔
’’وہ چاہتی ہے صمام کے امریکہ جانے سے پہلے تم دونوں کی منگنی کردی جائے۔‘‘
پتھر ہونے سے پہلے یہ سنتے ہی وہ سرخ ہوجاتی مگر پتھروںکے بھلا کہاں کوئی جذبات ہوتے ہیں۔ اس کے ذہن سے بے تاثر آواز برآمد ہوئی۔
’’مجھے صمام سے شادی نہیں کرنی۔‘‘ یہ الفاظ نہیں کوئی دھکا تھا۔ جنہوں نے پاپا جانی کو اُچھلنے پر مجبور کردیا تھا۔
’’یہ کیا کہہ رہی ہو تم بیٹا؟‘‘ انہوں نے بے پناہ تحیر سے پوچھا تھا۔
’’وہی جو آپ نے سنا۔‘‘ رائنہ کا انداز برقرار تھا۔ ’’اگر میں آپ پر بوجھ ہوں تو پھر کسی بے نام و نشاں خاندان میں بیاہ دیں مجھے۔ ایک بے نام و نشاں لڑکی کو شرافت و نجابت کے مالک ایک اونچے خاندان کی بہو بننے کا کوئی حق نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’رانی…!‘‘ دروازے سے نکلتے ہوئے اس نے پاپا جانی کی سسکی سنی مگر وہ رُکی نہیں۔
’’اس کے بعد جس نے سر مارا اسی کا سر پھوٹا۔مگر رائنہ کے انکار کو اقرار میں نہ بدل سکا۔ صمام بے حد خفا ہوکر امریکہ کے لیے فلائی کرگیا تھا۔


…٭٭٭…



طوفانی بارش اب رم جھم میں تبدیل ہوگئی تھی۔ رائنہ بھی ماضی سے حال میں لوٹ آئی تھی۔ اس کی آنکھیں یوں جل رہی تھیں جیسے کسی نے ان میں سرخ مرچیں بھر دی ہوں۔ وہ کتنی دیر اسٹیئرنگ سے سر ٹکائے رہی۔ پھر اچانک ہی اس کا دل گھبرانے لگا۔ رفتہ رفتہ گھبراہٹ بڑھنے لگی۔ گھبراہٹ کی بظاہر کوئی وجہ نہیں تھی۔ رائنہ کو اپنے ہاتھوں، پیروں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔
انجن پہلے سے اسٹارٹ تھا۔اس نے گاڑی کو گیئر میں ڈالا۔ اس کا رُخ گھر کی طرف تھا۔ اس عالم میں اسے یاد بھی نہیں رہا کہ اس کا سیل فون آف ہے۔
وہ گھر پہنچی تو گھر بھائیں بھائیں کررہا تھا۔ اس کا وجود لرزنے لگا۔ اس نے گاڑی اس نجی اسپتال کی طرف دوڑائی، جس سے ڈاکٹر ذوالقرنین منسلک تھے۔ اسپتال پارکنگ میں جانی پہچانی گاڑیاںدیکھتے ہی اختلاج قلب بڑھ گیا۔ پاپا جانی سے متعلق اندیشوں نے اسے گھیر لیا تھا۔
انتہائی نگہداشت کے شعبے کی راہداری میں اس کا سارا خاندان موجود تھا۔ رائنہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ عطیہ پھوپو سسکیاں لے رہی تھیں۔ عطا بابا اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپائے ہوئے تھے، سبھی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ خدیجہ پھوپو تیزی سے اس کی طرف بڑھیں۔ رائنہ کو بانہوں میں لیتے ہی وہ دھاڑیں مارنے لگیں۔
’’چلے گئے تیرے پاپا جانی اس دنیا سے چلے گئے۔‘‘
رائنہ کو زمین اپنے محور سے ہٹتی محسوس ہوئی۔ اسے بڑے زور کا چکر آیا۔ اگلے ہی لمحے وہ بے جان ہوکر خدیجہ پھوپو کی بانہوں میں جھول گئی۔ شدید صدمے کے زیر اثر وہ بے ہوش ہوگئی تھی۔
رائنہ کو ہوش آیا تو اس کی دنیا لٹ چکی تھی۔ آنسوئوں کے سوتے دوبارہ پھوٹ پڑے تھے۔ وہ پاپا جانی کے سفید کفن میں لپٹے بے جان وجود سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔
پاپا جانی کے نیم والب جیسے اب بھی اسے پکار رہے تھے۔ عطا بابا کے لیے اسے سنبھالنا مشکل ہورہا تھا۔ جب جنازہ اٹھا تو رائنہ ایک دفعہ پھر بے ہوش ہوگئی تھی۔

…٭٭٭…


پاپا جانی کا چالیسواں ہوچکا تھا مگر رائنہ کے آنسو خشک نہیں ہوئے تھے۔ پاپا جانی آخری سانسوں تک اسے پکارتے رہے تھے۔ ترستی آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ رائنہ سے رابطے اور تلاش کی ہر کوشش ناکام رہی تھی، پاپا جانی نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے دم توڑا تھا۔ رائنہ کی شدید ناراضگی کا بوجھ سینے پر لیے انہوں نے دنیا چھوڑی تھی اور شاید رائنہ کی مما سے متعلق ہر راز اپنے سینے میں لیے منوں مٹی کے نیچے جاسوئے تھے۔ رائنہ کو رہ رہ کر اپنی زیادتیاں یاد آتی تھیں اور آنکھیں برسنے لگتی تھیں۔
خدیجہ پھوپو اتنے دن سے اس کے ساتھ ہی تھیں۔ عطیہ پھوپو بھی کئی دن رہ کر گئی تھیں۔ پاپا جانی کی وفات کے بعد سے ان کا رویہ بدلا بدلا سا تھا۔ وہ رائنہ سے بے حد شفقت سے پیش آرہی تھیں۔ خدیجہ پھوپو آج ہی کچھ دیر کے لیے اپنے گھر گئی تھیں کہ عطا بابا ایک چھوٹے سے بیگ کے ساتھ رائنہ کے سامنے آکھڑے ہوئے۔ رائنہ بُری طرح سے چونک گئی۔ عطا بابا نے جھکے سر کے ساتھ کہا۔
’’رانی بیٹا! اجازت دو۔ میں اس گھر سے جاتا ہوں۔‘‘
رائنہ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ عطا بابا کا تو دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ یہ گھر انہی کا تو گھر تھا۔ وہ کہاں جانے لگے تھے۔ رائنہ نے بمشکل کہا۔
’’کہاں جارہے ہیں عطا بابا؟‘‘ اس کا انداز بے ربط تھا۔ اسے مناسب الفاظ ہی نہیں سوجھے تھے۔
عطا بابا نے ٹھنڈی سانس لی۔ ’’خدا کی بنائی کائنات بہت بڑی ہے۔ کہیں تو سر چھپانے کو جگہ مل جائے گی۔‘‘ ہر دم تیار آنکھیں فوراً ہی برسنے لگیں۔
مجھے کس کے سہارے چھوڑ کر جارہے ہیں؟‘‘ رائنہ نے ہچکیوں کے درمیان کہا۔
عطا بابا جو یہاں سے چلے جانے کا مضبوط ارادہ باندھ چکے تھے۔ وہ بکھر نے لگا۔ ان کی آنکھوں میں نمی تیر گئی۔ انہوں نے لرزتی آواز میں کہا۔
’’مجھے کمزور نہ کرو بیٹا! میرا چلے جانا ہی بہتر ہے۔‘‘
’’کیوں بابا؟‘‘ رائنہ نے ان کا کانپتا ہوا ہاتھ تھام لیا۔
عطا بابا کے لہجے نے مضبوطی پکڑی۔ ’’تمہیں دیکھتا ہوں تو خان صاحب کے آخری لمحات یاد آجاتے ہیں۔ تم نے جو اُن کے ساتھ کیا وہ نہ کیا ہوتا تو شاید آج بھی وہ زندہ ہوتے۔‘‘ دلی کیفیت زباں پر آ ہی گئی تھی۔ رائنہ کا سر جھک گیا۔ سسکیوں میں تیزی آگئی۔ عطا بابا نے اپنا ہاتھ چھڑایا تو رائنہ کا بازو ٹوٹی شاخ کی طرح اس کے پہلو میں آلگا۔ اس نے سسکتے ہوئے کہا۔
’’مجھے اپنی زیادتیوں کا بخوبی اندازہ ہے بابا! مگر میں کیا کرتی۔ آپ میرے دل میں بھی تو جھانک کر دیکھیں۔ بے نام و نشاں ہونے کا احساس کیاہوتا ہے۔ میں بے شک زیادتیوں کی مرتکب ہوئی ہوں مگر میری کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے اتنی کڑی سزا نہ دیں بابا!‘‘ اس کے آنسوئوں میں شدت آگئی۔ ’’مجھے چھوڑ کر نہ جائیں بابا! میں مرجائوںگی۔‘‘
عطا بابا نے جیسے خود کو پتھر کرلیا تھا۔ رائنہ کی التجائیں بے اثر ثابت ہورہی تھیں۔ انہوں نے بھیگی آواز میں کہا۔
’’خان صاحب نے دنیا چھوڑتے ہوئے بھی اپنی پلکوں پر تمہاری راہ کے کانٹے چُن دیئے ہیں، تم تنہا نہیں رہوگی ۔‘‘ رائنہ چونکی۔ عطا بابا بولے جارہے تھے۔ ’’آخری لمحوں میں انہوں نے عطیہ بیگم کو ایک ہی کوکھ اور دودھ کا واسطہ دے کر کہا تھا کہ رائنہ کو بہو بنالینا اور اسے اس کا مرتبہ بھی دینا۔ عطیہ بیگم نے آنسو بہاتے ہوئے ان سے اس کا وعدہ کیا تھا، تم سے بھی یہی درخواست تھی کہ صمام کو قبول کرلو۔ یہ باتیں کرنی تو خدیجہ بیگم نے تھیں مگر میں کررہا ہوں۔ تم تنہا نہیں رہو گی۔ سارا خاندان تمہارے ساتھ ہے۔‘‘
رائنہ کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کا دل پھٹ جائے گا۔ پاپا جانی کو دم توڑتے ہوئے بھی اس کا خیال تھا۔ عطا بابا کی ذہنی رو پاپا جانی کی طرف مڑ گئی تھی۔ ’’سبھی ہاتھ دھوکر خان صاحب کے پیچھے پڑ گئے تھے کہ تمہاری ماں کون تھی؟ کن حالات میں شادی وغیرہ ہوئی؟ مگر کسی نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ انہوں نے ساری زندگی تمہارے لیے وقف کردی۔ جوانی کی ان گنت راتیں اور دن انہوں نے تنہا گزاردیئے۔ کیا ان میں جذبات، خواہش و احساسات نہیں تھے؟ کیا انہیں شریک سفر کی ضرورت محسوس نہیںہوئی تھی؟ ان کی زندگی میں کسی عورت کا سایہ تک نہیں پڑا۔ ان کی قربانی کو کسی نے نہیں دیکھا اور نہ محسوس کیا۔ ان کی قربانی کے صلے میں اگر وہ اپنی گزری زندگی کا کوئی راز خود تک محدود رکھنا چاہتے تھے تو اس میں کیا بُرائی تھی۔ کیا یہ ان کا حق نہیں تھا؟ کیوں… تم سمیت سبھی ہاتھ دھوکر کر ان کے پیچھے پڑ گئے تھے۔‘‘ عطا بابا کی سانس پھول گئی تھی۔ وہ جیسے خود میں نہیں رہے تھے۔
رائنہ کا تو وہ حال تھاکہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ واقعی یہ تو اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ تو خود کو اور دوسروں کو حق بجانب ہی سمجھتی رہی تھی۔ پاپا جانی ہی اس کی نظروں میں مجرم ٹھہرے تھے۔ پشیمانی اور پاپا کے کھو جانے کا زیاں اسے محسوس ہونے لگا۔
عطا بابا کا سلسلۂ کلام جاری تھا۔’’عطیہ بیگم نے انہیں بے راہ روی کا الزام بھی دے دیا تھا کہ تم اسی کا نتیجہ ہو۔ مگر کیا کبھی کسی نے انہیں عیاشی اور بے راہ روی کی طرف مائل دیکھا۔ وہ جوان اور خوبرو تھے۔ دولت کی بھی کمی نہیں تھی۔ بھٹکنے سے انہیں کون روک سکتا تھا۔ پائوں میں کوئی زنجیر بھی نہیں تھی۔‘‘ انہوں نے دیوانگی کے سے عالم میں رائنہ کو بازوئوں سے تھام کر جھنجوڑا۔ ’’تم ہی بتائو، تم نے کبھی ان میں کبھی کوئی کمی دیکھی؟ بتائو… بتائو۔‘‘ وہ بُری طرح سے رونے لگے تھے۔
رائنہ کا سر گھٹنوں سے جا لگا تھا۔
عطا بابا نے اسی دیوانی سی کیفیت میں کہا۔ ’’بہت شوق ہے نا تمہیں اپنی ماں کے بارے میں جاننے کا۔‘‘ رائنہ نے بے اختیار سراٹھایا۔
اسے عطا بابا قطعی اجنبی لگ رہے تھے۔ یہ وہ عطا بابا تو نہیں تھے جنہوں نے اسے گود میں کھلایا تھا۔ یہ تو اس سے نفرت کرنے والا کوئی اجنبی تھا۔
’’میں خان صاحب جتنے ظرف کا مالک نہیں ہوں۔ مرنے سے پہلے انہوں نے اپنے سینے کا بوجھ میرے سامنے ہلکا کیا تھا۔ میں ان سے وعدہ خلافی کا مرتکب ہورہا ہوں۔‘‘ ان کا سانس دھونکنی کی مانند چلنے لگا تھا۔
عطا بابا نے بے حد ٹھہرے اندازمیں کہا۔ ’’تم واقعی ناجائز اولاد ہو۔ مگر خان صاحب کی نہیں کسی اور کی۔‘‘ رائنہ کو محسوس ہوا، جیسے زمین و آسمان پھٹ گئے ہیں اور وہ ریزہ ریزہ ہوکر بکھر گئی ہے۔ ’’خان صاحب کے ساتھ پڑھنے والی لیونا تمہاری ماں تھی۔ ایک پاکستانی نے اسے دھوکا دیا تھا تم اسی دھوکے کا نتیجہ ہو۔ خان صاحب نے محض ایک ہم وطن کے دھوکے کا ازالہ کیا ہے کہ سبھی پاکستانی ایک جیسے نہیں ہوتے۔‘‘ عطا بابا نے قدرے ربط کے ساتھ کہا۔ ’’خان صاحب کے حسن سلوک نے لیونا کو ان کے قریب کردیا تھا۔ خان صاحب کے دل میں بھی اس کے لیے نرم گوشہ تھا۔ لیونا نے خان صاحب کے اخلاق سے متا ثر ہوکر ان کے مذہب یعنی اسلام کا مطالعہ شروع کردیا۔ رفتہ رفتہ سچائی اور اسلام کی حقانیت اس پر واضح ہوتی چلی گئی۔ پھر وہ اسلام سے نزدیک اور خان صاحب سے دور ہوتی چلی گئی۔ وہ خود کو ان کے قابل نہیں سمجھتی تھی مگر خان صاحب اس کے لیے سنجیدہ ہوچکے تھے۔ وہ اسے اپنانے کا ارادہ کرچکے تھے پھر آہستہ آہستہ انہوں نے لیونا کو بھی کسی حد تک قائل کرلیا۔ اس دوران تم پیدا ہوچکی تھیں۔ جس دن لیونا کلمہ پڑھ کر فاطمہ بنی، اسی دن نسل پرست سر منڈے غنڈوں نے اسے گولی ماردی۔ اس کا محرک بھی ایک کلاس فیلو یہودی لڑکا رافیل گولڈ برگ تھا۔ وہ لیونا اور خان صاحب کے تعلق سے خار کھاتا تھا۔ گولی پیٹ میں لگی تھی۔ لیونا جو اب فاطمہ تھی چودہ دن تک زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہ کر دار فانی کی طرف کوچ کرگئی۔ مگر اس سے پہلے تمہیں خان صاحب کے حوالے کر گئی۔ تمہیں فرانس سے لانا ممکن نہیں تھا۔ اس لیے قانونی طریقے سے فاطمہ کی رضامندی سے خان صاحب نے تمہیں اڈاپٹ کیا اور پاکستان لے آئے اور اپنا نام دیا۔ فاطمہ نے ان سے عہد لیا تھا کہ وہ اس کی بیٹی کو
اپنا نام دیں گے اور اسے کبھی معلوم نہیں ہونے دیں گے کہ وہ کسی کی ناجائز اولاد ہے۔ وہ مرنے کے بعد بھی اپنی بیٹی کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہتی تھی۔ خان صاحب کی زبان اس لیے بند رہی کہ انہوں نے تمہیںاڈاپٹ کیا تھا۔ وہ ذرا سی بھی زبان کھولتے تو تم جان جاتی کہ تم ان کی بیٹی نہیں ہو۔ فرانسیسی سفارت خانے میں تمہارا ریکارڈ ہے اور سالہا سال تک ایک اسٹنٹ سیکریٹری تمہاری صحت، تعلیم و تربیت کی خبر گیری کے لیے سفارت خانے کی طرف سے تعینات رہا ہے۔ محض تمہیں شاک سے بچانے اور تمہاری ماں سے کیے عہد کی خاطر ان کی زبان بند رہی۔ انہوں نے جان دے دی مگر عہد نبھایا۔‘‘ عطا بابا کی آنکھوں سے جیسے آبشار بہہ نکلا تھا۔ آنسو ان کے چہرے کی جھریوں میں بہہ رہے تھے۔ رائنہ تو جیسے زمین میں گڑھی جارہی تھی۔
کتنے عظیم تھے اس کے پاپا جانی۔ ’’نہیں…‘‘ اس کے وجود میں کوئی چلایا۔ ’’تمہیں اس عظیم شخص کو پاپا جانی کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘
عطا بابا نے ایک دل دوز ہچکی کے ساتھ سلسلہ کلام جوڑا۔ ’’کیا خوب صلہ دیا ہے تم نے انہیں ان کی لازوال قربانی کا۔ تم ان کی فاطمہ کی نشانی تھیں۔ تمہیں دیکھ کر وہ جیتے تھے اور تمہیں دیکھنے کی حسرت سینے میںلیے انہوں نے دنیا چھوڑ دی۔‘‘
رائنہ کو یوں محسوس ہوا جیسے دل سینے میں پھٹ گیا ہے۔ وہ یوں بلک بلکہ کر روئی کہ کنکریٹ کی دیواروں کا بھی سینہ شق ہوگیا۔ مگر عطا بابا پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ شاید شق ہونے کے لیے ان کے پاس کچھ بچا بھی نہیں تھا۔
عطا بابا نے ایک دفعہ پھر اپنا بیگ اٹھالیا۔ رائنہ کے بلکنے میں شدت آگئی۔ عطا بابا نے تھکے تھکے انداز میں کہا۔
’’مجھے معاف کردینا رانی بیٹا! میں نے اپنے مالک سے وعدہ خلافی کرکے نمک حرامی کی ہے۔ اب تو ویسے بھی میرا یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔‘‘ وہ دروازے کی طرف بڑھے۔ ’’پیچھے سے آواز دے کر میرے حوصلے کو نہ آزمانا۔‘‘ وہ بیگ سمیت باہر نکل گئے۔
رائنہ اَن دیکھی آگ میں جلنے لگی۔ اس کا دل جیسے کسی نے دہکتے کوئلوں پر دھر دیا تھا۔ اب تو اسے ساری زندگی اس آگ میں جلنا تھا۔ اس کے دل کی دوا کسی کے پاس نہیں تھی۔ جن کے پاس تھی،وہ منوں مٹی اوڑھ گئے تھے۔



بیچتے تھے جو دوائے دل
دوکان اپنی وہ بڑھا گئے
٭٭٭[/size]
avatar
Senior Member
 Senior Member
Cheerful
User Title
Posts Posts : 125
Rep Points Rep Points : 116
Thanks Thanks : 1
Age Age : 27
150 / 999150 / 999
0 / 1500 / 150
Gender : Male
View user profile

default Re: غلط فهمي-2

on Mon Nov 28, 2011 4:26 am
Thanks For Nice
Sharing.....
View previous topicBack to topView next topic
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum