Presmurdu - Pakistani Urdu Forum | urdu shayari | Urdu Islam | Design Urdu Poetry
Aslam-O-Alekum
mhotram guest ager ap www.presmurdu.com k member hain tu yahan sa login hun....
ager ap member nahi hain tu yahan sa ap humara es forum ma Register ho sakta hain.......




















Share
View previous topicGo downView next topic
avatar
Super Member
Super Member
Fine
User Title
Posts Posts : 616
Rep Points Rep Points : 852
Thanks Thanks : 8
Age Age : 27
150 / 999150 / 999
0 / 1500 / 150
Gender : Male
View user profile

default اہلِ محبت…

on Wed Nov 02, 2011 2:40 pm
اہلِ محبت… مہتاب خان

میں اس وقت کراچی کے ایک بارونق بازار میں کچھ خرید و فروخت کررہا تھا اور بازار کے شمالی حصے میں کراکری کی ایک دکان کے سامنے کھڑا تھا‘ جب سرخ رنگ کی ایک ٹویوٹا کرولا سڑک پر رکی اور اس میں سے ایک خوب صورت عورت اُتر کر کسی دکان کی طرف بڑھی۔ میں نے عورت کی صرف ایک جھلک دیکھی تھی اور سُن ہوکر رہ گیا۔ وہ شانو تھی! میری آنکھیں دھوکا نہیں کھا سکتی تھیں‘ میں نے اسے بہت قریب سے اور ایک عرصے تک دیکھا تھا۔ میں اس کی ایک ایک ادا کو پہچانتا تھا۔
شانو اس وقت بالکل مختلف روپ میں تھی۔ اس نے اونچی ایڑی کی سینڈل اور جدید فیشن کا لباس پہنا ہوا تھا۔ اس کا پُرکشش چہرہ ہلکے میک اپ میں کسی نگینے کی طرح دمک رہا تھا۔ وہ کچھ کھوئی کھوئی سی دکان کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی کہ اسی وقت اس کی نگاہ میری طرف اٹھ گئی۔ اس کی خوب صورت آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں اور چہرہ رنگ بدل گیا۔ ایک بار تو یوں لگا کہ وہ مجھ سے بات کرنا چاہتی ہے مگر اگلے ہی لمحے وہ بالکل اجنبی نظر آنے لگی۔ اس نے پیشانی پر ڈھلک آنے والی بالوں کی لٹ کو سر جھٹک کر پیچھے ہٹایا اور دکان دار کی طرف متوجہ ہوگئی۔ میں وہیں کھڑے کھڑے اس کا جائزہ لینے لگا۔ وہ سخت گھبرائی ہوئی نظر آرہی تھی اور صاف محسوس ہوتا تھا کہ خریداری کی طرف اس کا قطعاً دھیان نہیں ہے۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ میں وہیں قریب میں موجود ہوں۔
چند لمحے بعد وہ بغیر کچھ خریدے دکان سے نکلی اور سڑک پر آگئی۔ بازار میں خاصی گہما گہمی تھی۔ وہ لوگوں کے درمیان راستہ بناتی تیز تیز آگے بڑھنے لگی۔ میں نے مستعدی سے اس کا تعاقب شروع کردیا۔ جلد ہی وہ اپنے تعاقب سے آگاہ ہوگئی اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی سراسیمگی میں اضافہ ہوگیا۔
میں کافی فاصلے سے بھی اس کے چہرے کا ہراس واضح طور پر دیکھ سکتا تھا پھر اچانک وہ ایک گلی میں مڑگئی‘ یہاں خریداروں کا ہجوم زیادہ تھا۔ اس نے یہ حرکت اتنی اچانک اور ایسی سمجھ داری سے کی تھی کہ میں چکر کھا گیا۔
راہ گیروں سے دھکم پیل کرتا میں جونہی اس تنگ گلی کے ناکے پر پہنچا شانو مجھے کہیں نظر نہ آئی۔ گلی کے دونوں اطراف دوپٹوں اور سلائی کی ان گنت دکانیں تھیں۔ اب تگ ودو کرنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ فوری طور پر میرا دھیان اس سرخ گاڑی کی طرف چلا گیا‘ جس نے شانو کو کراکری کی دکان کے سامنے اُتارا تھا۔ میں واپس مڑا اورتقریباً بھاگتے ہوئے اس دکان تک پھر پہنچ گیا‘ مجھے یہ دیکھ کر تسلی ہوئی کہ کار وہیں موجود تھی۔ ادھیڑ عمر باوردی ڈرائیور کار کے قریب کھڑا اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا شاید اسے توقع نہیں تھی کہ مالکہ اتنی دیر لگائیں گی۔ وہ اسکوٹر جس پر میں یہاں پہنچا تھا‘ دکان کے سامنے ہی کھڑا تھا۔ میں نے اسکوٹر وہاں سے ہٹایا اور کچھ فاصلے پر لے جاکر کھڑا کردیا۔ یہاں سے میں اس کار پر بخوبی نگاہ رکھ سکتا تھا۔ سب سے پہلے تو میں نے کار کا نمبر نوٹ کیا اور پھر اسکوٹر پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگا کہ کب وہ ہراساں ہرنی واپس پہنچے اور گاڑی میں بیٹھے۔ اگر وہ نہ بھی پہنچتی تو کوئی خاص فرق پڑنے والا نہیں تھا۔ میں کار کا تعاقب کرتا ہوا آسانی سے اس کے ٹھکانے تک پہنچ سکتا تھا۔
پھر وہی ہوا جس کا مجھے گمان تھا‘ شانو واپس نہیں لوٹی‘ ڈرائیور بار بار گھڑی دیکھتا رہا اور بے قراری سے اپنی چندیا کھجاتا رہا۔ مایوسی کے عالم میں اس نے قریبی دکانوں کا ایک چکر لگایا اور پریشان چہرے سے گاڑی میں آبیٹھا۔ اب شام گہری ہوچلی تھی۔ شانو کو گاڑی سے اُترے تقریباً دو گھنٹے ہوچکے تھے یقینا ڈرائیور اس سے زیادہ انتظار نہیں کرسکتا تھا۔ اس نے گاڑی آگے بڑھائی اور تیزی سے روانہ ہوگیا۔
میں نے محتاط انداز میں گاڑی کا پیچھا کرنا شروع کردیا۔ مختلف سڑکوں اور گلیوں سے ہوتی ہوئی آخر یہ گاڑی ایک شاندار کوٹھی کے سامنے جا رکی۔ چاروں طرف سے درختوں میں گھری ہوئی یہ کوٹھی جدید طرز پر تعمیر شدہ تھی۔ میں نے کوٹھی کی نیم پلیٹ پڑھی اور اس کی تفصیلات ذہن نشین کرتا ہوا واپس آگیا۔
یہ کوٹھی وقار ملک نامی شخص کی تھی۔ میں نے تھوڑی سی تگ و دو کے بعد اس کے نام اور پتے کی تصدیق کرلی اور ٹیلی فون نمبر نوٹ کرلیا۔ اسی روز دوپہر کے وقت میں نے اس نمبر پر فون کیا۔ ایک گھریلو ملازمہ نے فون اٹھایا‘ میں نے اس سے پوچھا۔
’’وقار صاحب گھر پر ہیں؟‘‘
میری توقع کے مطابق نفی میں جواب ملا تب میں نے کہا کہ ’’بیگم صاحبہ کو بلائو۔‘‘
یہ تیر نشانے پر بیٹھا۔ تھوڑی دیر بعد ریسیور سے جو شیریں اور کھنک دار آواز سنائی دی‘ وہ شانو کی ہی تھی اگرچہ لب و لہجہ بہت حد تک تبدیل ہوچکا تھا مگر یہ تبدیلی کم از کم میرے کانوں کودھوکا نہیں دے سکتی تھی۔ میں نے شانو کے ہیلو کے جواب میں کہا۔
’’دیکھو شانو! فون بند نہ کرنا کیونکہ اس میں تمہاری ہی بہتری ہے۔‘‘
’’کک… کون ہو تم؟‘‘ دوسری جانب ڈری اور سہمی ہوئی آواز آئی۔
ایک لمحے کے لیے مجھے محسوس ہوا کہ یہ خوف زدہ کمزور آواز شانو کی نہیں ہوسکتی وہ ایسے لرزاں لہجے میں کہاں بات کرتی تھی۔ کل بھی جب میں نے اسے بڑی نزاکت سے دکان کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھا تھا تو وہ مجھے بڑی عجیب سی لگی تھی۔ شانو تو ایک تند بگولے کا نام تھا جو جدھر سے گزرتا ہر شے کو الٹ پلٹ کر رکھ دیتا تھا مگر کچھ بھی تھا‘ فون پر دوسری طرف شانو ہی تھی۔
’’شانو! میں علی رضا ہوں۔ تمہارے بچپن کا ساتھی…! کل میں نے تمہیں گاڑی سے اُترتے دیکھ لیا تھا۔ اسی گاڑی نے مجھے تمہارے ٹھکانے سے آگاہ کیا ہے۔‘‘
دوسری جانب سے اس کی سراسیمہ آواز سنائی دی۔
’’کون ہو تم؟ مجھے تمہاری باتیں بالکل سمجھ میں نہیں آرہیں اور میرا نام شانو نہیں ثنا ہے۔‘‘
’’شانو یا ثنا! تم بے حد خوف زدہ ہورہی ہو۔ شاید تمہیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ گھریلو عورتیں اس طرح فون پراپنا نام نہیں بتایا کرتیں۔‘‘
’’تم کہنا کیا چاہتے ہو… کس لیے فون کیا ہے؟‘‘
میں نے اعتماد سے کہا۔ ’’شانو! میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘
دوسری طرف سے کلک کی آواز آئی میں ہیلو ہیلو کرتا رہا لیکن سلسلہ منقطع ہوچکا تھا۔
میں نے پورا ایک دن اسے سوچنے کا موقع دیا اور اگلے روز پھر اسی وقت فون کیا۔ اتفاقاً اس روز شانو ہی نے فون اٹھایا لیکن اس نے ایک بار پھر مجھے پہچاننے سے انکار کردیا۔ وہ سخت متذبذب محسوس ہورہی تھی۔ ڈری اور سہمی ہوئی… میں نے فیصلہ کُن لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا۔
’’دیکھو شانو! میرے پاس زیادہ وقت نہیں‘ میں کل ٹھیک دو بجے ولیج میں تمہارا انتظار کروں گا۔ اچھی طرح ذہن نشین کرلو۔ ولیج‘ ٹھیک دو بجے! اس کے بعد حالات کی ذمہ داری تم پر ہوگی اور تم گمان بھی نہیں کرسکتیں کہ حالات کتنے سنگین ہوسکتے ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے میں نے فون بند کردیا۔
اگلے روز ٹھیک سوا دو بجے میں اور شانو ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ شانو نے خود کو ہلکے رنگ کی ایک چادر میں اس طرح چھپایا ہوا تھا کہ اس کے چہرے کا کچھ حصہ ہی بہ مشکل نظر آسکے۔ اس نے پلکیں اٹھا کر میری جانب دیکھا۔ آج اس کی آنکھوں سے گہری شناسائی جھانک رہی تھی۔ وہ ایک ٹک مجھے دیکھتی چلی گئی اور پھر بالکل اچانک اس نے میرے دونوں ہاتھوں کو تھاما اور ان پر اپنا چہرہ جھکا کر ہچکیوں اور سسکیوں سے رونے لگی۔ چادر کے اندر اس کا خوب صورت جسم بری طرح لرز رہا تھا اور میرے ہاتھ اس کے آنسوئوں کی گرمی محسوس کررہے تھے اس کی آواز زیادہ بلند تو نہیں تھی مگر پھر بھی کوئی متوجہ ہوسکتا تھا۔ میں شانو کو دلاسے دینے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔یوں لگتا تھا اس کے ضبط کا ہر بند ٹوٹ گیا ہے۔
’’کیا یہ وہی شانو ہے۔‘‘ میں نے خود سے سوال کیا اور ماضی میں کھو گیا۔
…٭٭٭…

شانو کا گھر گائوں میں ہمارے پڑوس میں تھا۔ وہ انیس بیس برس کی انتہائی خوب صورت لڑکی تھی۔ اگر وہ اپنے حلیے سے اتنی بے پروا نہ رہتی تو کہیں زیادہ دلکش نظر آتی پھر بھی
الجھے ہوئے لمبے بالوں اورملگجے لباس کے باوجود وہ دل موہ لینے والی شخصیت رکھتی تھی۔ ہنسی مذاق‘ دھول دھپّا اس کا روز کا معمول تھا۔ وہ ہم لڑکوں کے ساتھ لڑکوں والے کھیل کھیلتے ہوئے جوان ہوئی تھی اور اس کی چال ڈھال میں لڑکوں کی سی تیزی و تندی پائی جاتی تھی۔ ایک روز اس کے باپ نے اسے مارا نہ ہوتا تو وہ اب بھی گائوں کے لڑکوں کے ساتھ گلی ڈنڈا کھیل رہی ہوتی یا اپنی سڈول کلائی کسی گھبرو کے ہاتھ میں دے کر اس کو سمجھا رہی ہوتی کہ کلائی چھڑانے کے لیے کیسے زور لگانا چاہیے اور کلائی پکڑتے ہوئے کیا چالاکی دکھانا چاہیے۔ شانو کا قد ساڑھے پانچ فٹ اور جسم متناسب اور مضبوط تھا۔ باپ کی اچھی خاصی زمینیں تھیں۔
گھر میں خوش حالی تھی جس کا ایک ثبوت اس کے سرخ انار جیسے گال تھے۔ غصے کے عالم میں یہ گال اور بھی سرخ ہوجاتے تھے یوں لگتا تھا جیسے ابھی ان میں سے خون چھلک پڑے گا۔ وہ میری ہی عمر کی تھی۔
ایک دفعہ ہم گائوں سے باہر قبرستان کے قریب کھلے میدان میں گلی ڈنڈا کھیل رہے تھے کہ کھیل کے دوران ہانپتے ہوئے شانو نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سرخ انار جیسے گال پر رکھ دیا اور بولی۔
’’دیکھ علی! میرے گال کیسے تپ رہے ہیں۔‘‘
اس کی اس اضطراری حرکت سے میں دل ہی دل میں بہت لطف اندوز ہوا تھا۔ اس کے گال کی نرمی اور حدت میں عرصے تک فراموش نہ کرسکا۔ میں نے کئی بار سوچا کہ کاش! پھر کسی دن شانو کے گال دہکنے لگیں اور وہ میرا ہاتھ بے نیازی سے پکڑ کر اپنے رخسار پر رکھ لے مگر پھر کبھی ایسا نہ ہوا۔
پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ گائوں کے دوسرے لڑکوں کی طرح میں بھی شانو کے یک طرفہ عشق میں گرفتار ہوگیا لیکن وہ لڑکپن کے اس دور سے یوں آندھی اور طوفان کی طرح گزری تھی کہ ہم سب آنکھیں ملتے رہ گئے تھے۔
ان دنوں میں ایف اے کا امتحان دے کر فارغ پھررہا تھا کہ میں نے دوستوں سے سنا کہ شہر سے چوہدری ریاست کا ایک دوست شہباز آیا ہوا ہے اور اسے گائوں اس قدر پسند آیا ہے کہ وہ یہیں اپنے لیے حویلی بنوارہا ہے۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی بلکہ حیران کن بات تو یہ تھی کہ شانو اس پر مرمٹی تھی۔ فرصت کے زمانے میں انسان کے پاس سوچنے سمجھنے کو بہت کچھ ہوتا ہے لہٰذا میرا ذہن بھی ان دنوں سوچوں کا اکھاڑا بنا رہتا تھا۔ ان میں سب سے نمایاں سوچ شہباز اور شانو کی بابت تھی۔ میں سوچا کرتا تھا کہ اس معاشقے کا انجام کیا ہوگا۔
جہاں تک آغاز کا تعلق ہے تو یہ اس دن شروع ہوا تھا جب گھڑ سواری کے دوران شہباز کا گھوڑا بدک گیا اور شہباز زمین پر گِر پڑا تھا۔ گھوڑا اپنے سموں سے اسے کچلنے کے درپے تھا کہ اچانک سامنے گھر سے شانو برآمد ہوئی اور لاٹھی لے کر گھوڑے پر پل پڑی۔ اس نے گھوڑے کے منہ پر اتنے تابڑ توڑ حملے کیے کہ اس نے بوکھلا کر شہباز کو چھوڑ دیا اور ایک سمت بھاگ نکلا۔
شور سن کر میں بھی گھر سے باہر نکلا تو دیکھا کہ شہباز زخمی حالت میں زمین پر پڑا کراہ رہا ہے۔ شانو نے اپنی بہادری سے شہباز کی جان بچالی تھی جب حالات قابو میں آگئے تو اِدھر اُدھر کونوں میں دُبکے ہوئے لوگ بھی نکل آئے اور وہاں جمع ہوگئے۔ میں اور شانو سہارا دے کر شہباز کو شانو کے گھر لے گئے۔ اس کے زخم شدید ضرور تھے مگر سنگین نہیں تھے۔ شانو اس کی مرہم پٹی کرنے میں جُت گئی۔ شہباز ایک خوش شکل نوجوان تھا اور صورت ہی سے بااخلاق اور ملنسار نظر آتا تھا۔
ہاں تو ذکر ہورہا تھا شانو اور شہباز کے عشق کا… پہلے پہل مجھے یہ خبر بڑی عجیب لگی تھی‘ یقین نہیں آیا کہ شانو جیسی لڑکی کی زندگی کا ایک یہ رخ بھی ہوسکتا ہے‘ بہرحال بہت جلد گائوں کے دوسرے لوگوں کی طرح میں نے بھی بہت کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ میں نے کئی بار شانو کو شہباز کی طرف گھورتی ہوئی نظروں سے دیکھتے پایا۔ ایک روز تو مجھے سخت حیرت ہوئی کہ شانو شہباز کی نئی تعمیر شدہ حویلی میں گھسی صفائی کررہی تھی‘ اس نے دوپٹا کس کر کمر سے باندھ ہوا تھا اور جھاڑو دینے میں مصروف تھی جب کہ شہبازبے بسی کے عالم میں باہر کھڑا تھا۔ میں اس کی مزاج پرسی کی خاطر اس کے پاس جا پہنچا تو وہ روہانسے لہجے میں بولا۔
’’یار! یہ لڑکی تو میری جان کو آگئی ہے۔ ہر وقت سر پر سوار رہتی ہے‘ دو دن سے کہہ رہی تھی کہ میں خود تیرے گھر کی صفائی کروں گی۔‘‘
شہباز نے اگرچہ یہ باتیں بڑے دھیمے لہجے میں کہی تھیں مگر شانو کے تیز کانوں سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ وہ جھاڑو پکڑے بگولے کی طرح آئی اور تنک کر بولی۔
’’کون سر پر سوار ہے؟‘‘
شہباز جھلّا کربولا۔ ’’تُو اور کون…! عاجز آگیا ہوں۔ سر توڑ دوں گا تیرا۔‘‘ شانو کے چہرے پر شفق سی پھیل گئی۔ عجیب انداز سے شرماتے ہوئے بولی۔
’’تُو تو میری جان بھی لے لے تو ہائے نہ کروں۔‘‘ شانو کی یہ بے باکی دیکھ کر میںبھونچکا رہ گیا یعنی معاملہ کافی آگے نکل گیا تھا۔
میں بی اے کے امتحانات میں مصروف ہوگیا تھا اس لیے دو تین ماہ گائوں کی زندگی سے کٹ کر رہ گیا۔ اس روز میں اپنا آخری پرچا دینے کے لیے جارہا تھا‘ جب میں نے یہ روح فرسا خبر سنی کہ کسی نے رات شہباز پر قاتلانہ حملہ کیا ہے اور اسے شدید زخمی حالت میں شہر کے اسپتال پہنچادیا گیا ہے اور اس کے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
میں نے جیسے تیسے اپنا پرچاد یا اور فوراً گائوں واپس روانہ ہوگیا۔ راستے میں طرح طرح کے خیالات ذہن پر یلغار کرتے رہے‘ گائوں پہنچا تو ایک اور حیرت انگیز خبر ملی کہ شانو گھر سے غائب تھی اور متعلقہ تھانے کا عملہ موقع پر پہنچ کر تحقیق کرنے میں مصروف تھا۔
اس حادثے نے گائوں کے ہر فرد کو متاثر کیا تھا اور ان متاثرین میں میرانام بھی شامل تھا۔ شہباز ایک ہمدرد اور شریف النفس انسان تھا۔ اب سوچنے کی بات یہ تھی کہ سردیوں کی اس تاریک رات کو کیا واقعہ رونما ہوا تھا کہ خوبرو شہباز کو زندگی کے لالے پڑگئے اور اس کے ساتھ ساتھ حسین اور چنچل شانو بھی گھر سے غائب ہوگئی۔ اس سوال کا جواب کم و بیش گائوں کے ہر فرد کو چاہیے تھا مگر میری طبع میں تجسّس کچھ زیادہ ہی رہا ہے۔ اس لیے میں اس واقعے کی تحقیق میں مصروف ہوگیا۔ میں نے اس اسپتال کے تین چار چکر لگائے جہاں شہباز زیر علاج تھا۔ میں نے اس سے بات چیت کی لیکن کوئی اہم بات معلوم نہیںہوسکی۔ اس نے مجھے وہی کچھ بتایا جو پولیس کو اور دوسرے گائوں والوں کوبتایا تھا کہ اسے کچھ معلوم نہیں کہ حملہ آور کون تھے۔ رات آٹھ بجے سونے کے بعد اس کی آنکھ اسپتال ہی میں کھلی تھی۔ جہاں وہ پٹیوں میں جکڑا آئی سی یو میں پڑا تھا۔ اس نے کسی پر شک کا اظہار نہیں کیا تھا لیکن اس نے ایک اور بات بتائی کہ وقوع سے ایک دن پہلے شانو سے اس کا جھگڑا ہوگیا تھا اور اس واقعہ کے دو چشم دید گواہ بھی موجود تھے‘ یہ دونوں کسان تھے اور اس روز صبح منہ اندھیرے کھیتوں میں کام کررہے تھے بعد میں مجھے یہ تفصیل ان کسانوں کے ذریعے بھی پتا چلی کہ اس روز انہیںاچانک درختوں کی طرف سے تیز بولنے کی آوازیں آئیں تو انہوں نے دیکھا کہ شانو اور شہباز کھڑے باتیں کررہے ہیں۔ شہباز شانو کو جھڑکتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ وہ یہاں سے چلی جائے‘ اس کی شادی کسی اور سے طے ہوگئی ہے‘ جواب میں شانو نے روتے ہوئے کہا تھا۔ ’’میں دیکھتی ہوں کہ کون تیرے دل کی رانی بنتی ہے۔ میں سب کچھ برباد کردوں گی۔ میرا نام شانو ہے۔‘‘ اس پر شہباز نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’’جب برباد کرے گی تو دیکھ لوں گا‘‘۔ تب شانو نے غضب ناک ہوکر کہا۔ ’’تو نے ابھی میرا غصہ نہیں دیکھا اور نہ اللہ کرے تو کبھی دیکھے۔‘‘
شانو کی نظریں جب دونوں کسانوں پر پڑیں تو وہ ٹھٹک کر گائوں کی جانب چل دی تھی۔ اس واقعے کے بعد اسی رات کسی نے شہباز پر سوتے میں حملہ کردیا اور اسے زخمی کردیا اور اسی رات شانو نہایت خاموشی سے اپنے گھر سے فرار ہوگئی۔ حالات اور شواہد واضح طور پر شانو کی طرف انگلی اٹھا رہے تھے۔
چوہدری کی حویلی میں شہباز کا ایک کھلا دشمن بھی موجود تھا۔ یہ شہباز کے دوست چوہدری ریاست کا چھوٹا بھائی سخاوت تھا۔ سب کومعلوم تھا کہ وہ شہباز کی گائوں میں رہائش پر خوش نہیں تھا۔ تیسری بات یہ رہ جاتی تھی کہ شانو کے دونوں بھائیوںنے مل کر یہ کام کیا ہے۔ قصہ مختصر پولیس نے ان تینوں خطوط پر بھرپور تفتیش کی مگر اس گتھی کا کوئی سرا ہاتھ نہ آیا۔
کافی عرصہ گزرنے کے بعد جب شانو کی گمشدگی کا کوئی سراغ نہیں ملا تو سب یہی کہنے لگے کہ یہ ساراکام شانو ہی کا تھا۔ اسے جب معلوم ہوا کہ شہباز شہر میں شادی کررہا ہے تو اس نے خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں اور بعد میں اس دھمکی کو عملی جامہ پہنادیا اور فرار ہوگئی۔ٰ
اس کے باوجود کچھ لوگ ایسا نہیں سمجھتے تھے اور ان میں سے ایک میں بھی تھا۔ میں نے شانو کو بہت قریب سے دیکھا تھا‘ ہم ساتھ کھیل کر ہی جوان ہوئے تھے۔ وہ بچپن سے میری ساتھی تھی‘ میں اس کے باپ کو چاچا کہتا تھا۔ چاچا مجو کی ساری اولاد کی عقل اور ہوش مندی جیسے شالو میں آگئی تھی۔ وہ ہاتھ چھوٹ اور خودسر ہونے کے ساتھ بڑی ذہین تھی البتہ لا اُبالی ہونے کے باوجود نہایت ٹھنڈے دل ودماغ کی مالک تھی۔ مجھے پتا تھا وہ بڑے مضبوط کردار کی لڑکی تھی۔ ممکن ہے شہباز کی شادی کا سُن کر اس کے دل کو ٹھیس پہنچی ہو اور اس نے تنہائی میں شہباز سے بات کی ہوگی مگر اس گفتگو کے نتیجے میں اس نے شہباز کو جان سے مارنے کی کوشش کی‘ یہ میرے ذہن میں نہیں سماتا تھا۔ اگر اس نے ایسا کہا بھی تھا تو اس کے پیچھے یقینا کوئی بڑی وجہ ہوگی۔
اس واقعہ کو بغیر حل ہوئے چار برس بیت چکے تھے اور آج وہ ملی تو بس روئے جارہی تھی۔
شانو روئی اور بہت دیر تک روئی پھر جب اس کاجی ہلکا ہوا تو ہم نے چائے وغیرہ پی۔ میرے بے پناہ اصرار کے بعد اس نے اپنی بپتا سنانی شروع کی لیکن اس شرط کے ساتھ کہ میں اس کو اس کے حال پر چھوڑ دوں گا اور کسی طرح مہم جو بننے کی کوشش نہیں کروں گا۔ مجھ سے عدم مداخلت کا عہد لینے کے بعد اس نے دونوں ہاتھ میرے سامنے جوڑ دیے تھے اور ایسا التجائی لہجہ اختیار کیا کہ میں نے خلوص دل سے وعدہ کرلیا کہ اگر میں اسے فائدہ نہ پہنچا سکا تو نقصان بھی نہیں پہنچائوں گا اوراگر اس کے بتائے گئے حالات کے مطابق واقعی میرا خاموش رہنا مناسب ہوا تو میں اس خاموشی کو مصلحت سمجھ کر قبول کرلوں گا۔ اس کے بعد شانو نے جو روداد سنائی اس کا لب لباب یہ ہے۔
اس رات شہباز پر جو قاتلانہ حملہ ہو اتھا وہ نہ شانو نے کیا اور نہ اس کے بھائیوں میں سے کسی نے‘ اس کا ذمہ دار چوہدری سخاوت بھی نہیں تھا بلکہ اس حملے کا ذمہ دار خود شہباز کا دوست ریاست تھا۔ وہ خود شانو سے شادی کا خواہش مند تھا‘جب اسے پتا چلا کہ شانو اس کے دوست شہباز سے محبت کرنے لگی ہے تو اس نے بہت پیچ و تاب کھائے۔ اسی دوران شہر میں شہباز کی شادی طے ہوگئی اور شانو اور شہباز کی ملاقات کا واقعہ ہوگیا۔ اس دن چوہدری ریاست شانو کے راستے میں گھات لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔ شانو جب واپس جارہی تھی تو چوہدری نے اسے راستے میں روک لیا اور اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اس سے شادی پر تیار ہوجائے‘ اس نے شہباز کو بھی بُرا بھلا کہا۔ شانو نے غصے میں آکر اس کے منہ پر تھپڑ ماردیا اور کہا کہ اس کی گھر والی بننے سے بہتر وہ یہ سمجھتی کہ زہر پھانک لے۔ چوہدری شانو کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا تھا‘ ان میں سے ایک دھمکی یہ بھی تھی کہ وہ شہباز کو جان سے مار ڈالے گا۔ کچھ تیز و تند مکالموں کے بعد وہ دانت کچکچاتا ہوا واپس چلا گیا۔
اسی رات کو جب شہباز اپنے کمرے میں پہنچا تو چوہدری چار پائی کے نیچے چھپا ہوا تھا۔درحقیقت وہ شام ہی سے شہباز کا انتظار کررہا تھا۔ وہ ایک تیز دھار کلہاڑی سے لیس تھا۔ اس نے بڑے اطمینان سے شہباز کے سونے کا انتظار کیا اور جب شہباز گہری نیند سوگیا تو اس نے اس پر قاتلانہ حملہ کردیا۔
اس اندوہناک واقعے کی خبر جب شانو تک پہنچی تو اس کا دھیان فوراً چوہدری کی طرف چلا گیا۔ اسے وہ ملاقات اور اس کا زہریلا لہجہ یاد آیا اور وہ سمجھ گئی کہ ا س کے محبوب کو خون میں ڈبونے والا کون ہے۔ اس کا مارے غصے کے بُرا حال ہوگیا۔ وہ وہی دس بارہ سال کی کھلنڈری لڑکی بن گئی جو لڑکوں سے پنجہ آزمائی کرتی تھی اور غصے میں آکر مدّمقابل کو زمین پر دے مارتی تھی۔ وہ آنکھوں میں آنسو اور دل میں طوفان لیے زخمی شیرنی کی طرح گھر سے نکلی اور اپنے محبوب کا انتقام لینے چل پڑی۔ اس نے یہ بھی نہیں سوچا کہ وہ ایک لڑکی ہے‘ خوب صورت ہے‘رات تاریک ہے اور گائوں کی گلیاںسنسان…! وہ کتنی ہی زور آور اور جوشیلی سہی آخر عورت ذات ہے۔ مرد اسے دیکھے تو پاگل ہوجائے۔ اس کے دل میں صرف ایک ہی بات تھی کہ اسے انتقام لینا ہے اور یہ انتقام صرف وہی لے سکتی ہے۔ وہ سیدھی گائوں سے باہر چوہدری کے ڈیرے پر پہنچی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ رات چوہدری اپنے دوستوں کے ساتھ ڈیرے پر ہی ہوتا ہے۔ وہ غصے میں پاگل ہورہی تھی کسی بھی اندیشے کو خاطر میں لائے بغیر وہ سیدھی ڈیرے میں گھس گئی۔ وہاں چوہدری اور اس کے دوست مہمان بھی موجود تھے۔ شانو نے اندر گھستے ہی چوہدری کو دبوچ لیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں درانتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ درانتی چوہدری کے پہلو میں گھسادے کہ چوہدری اور اس کے مہمانوں نے جھپٹ کر شانو کو دبوچ لیا۔ وہ بے دریغ درانتی گھمانے لگی۔اس کا ایک وار چوہدری کے ایک دوست کے ہاتھ پر لگا اور خون ابل پڑا۔ دوسرے نے شانو کو عقب سے جکڑ لیا اوردرانتی کلائی تھام کر مروڑنی شروع کی۔ بپھری ہوئی شانو نے خود کو چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر آخر کار وہ بے بس ہوگئی۔ ان لوگوں نے اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا اور ہاتھ پائوں باندھ دیے۔ چوہدری نے خود ہی مرہم پٹی کرلی۔ اب بے بس شانو وحشی درندوں کے قبضے میں تھی۔ ان کے تیوروں سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس سے بھرپور انتقام لیں گے۔ وہ شہباز کا انتقام تو نہ لے سکی بلکہ خود ان کے جال میں پھنس گئی تھی۔ چوہدری کے دونوں مہمانوں میں سے ایک پتلون قمیص والا کوئی شہری شخص تھا‘ اس کا نام وقار ملک تھا.
ان کی باتوں سے ظاہر ہوا کہ وقار ملک یہاں شکار کھیلنے آیا تھا۔ چوہدری اس سے مرعوب نظر آتا تھا اور اس کا نام بے تکلفی سے نہیں لے رہا تھا۔ چوہدری کے ساتھ ساتھ وقار ملک بھی شانو کو للچاتی ہوئی نظروں سے گھور رہا تھا۔ آخر وہ چوہدری سے بولا۔
’’یار! یہ مصیبت تُو میرے گلے ڈال دے۔‘‘ اس کا اشارہ شانو کی طرف تھا۔
چوہدری نے اس کی بات کو سمجھتے ہوئے کہا۔ ’’ملک صاحب! آپ کا حکم سر آنکھوں پر… صبح شکار کے ساتھ ایک شکار یہ بھی سہی!‘‘
وقار نے چوہدری کے حریص چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’صبح تک اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
چوہدری نے کہا۔ ’’ملک صاحب! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں اس نے ہم تین آدمیوں پر حملہ کیا ہے۔ یہ رحم کے قابل کہاں؟‘‘
وقار ملک نے اپنے زخمی بازو کی پٹی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ’’یار! ان زخموں کا بدلہ بھی تو لینا ہے اور یاروں کا بدلہ یار ہی تو چکاتے ہیں۔‘‘
چوہدری نے احتجاج کرتے ہوئے کہا۔ ’’اس کے عاشق کو میں نے راستے سے یونہی تو نہیں ہٹایا۔‘‘
وقار ملک نے کہا۔ ’’پتا نہیں وہ بچتا بھی ہے یا نہیں اگر بچ بھی گیا تو میں اس کو اس قابل نہیں چھوڑوں گا کہ اس سے شادی کرسکے۔‘‘
’’چوہدری نے کہا۔ ’’اس خوب صورت چڑیل کے لیے میں نے بہت پاپڑ بیلے ہیں‘ بڑاخرچہ کیا ہے۔‘‘
وقار ملک نے چوہدری کامقصد سمجھ لیا۔ اس نے شانو کے وجود کو نگاہوں میں تولا اور بولا ۔ ’’پچاس ہزار ٹھیک رہیں گے۔‘‘
چوہدری کے چہرے پرمکارانہ تاثرات ابھرے ‘ وہ بولا۔ ’’میرا خیال ہے ملک صاحب! یہ بات ابھی قبل ازوقت ہے‘ ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں شہباز کا کیا بنتا ہے۔‘‘
وقار نے کہا۔ ’’وہ سارے مسئلے میرے ذمہ! بس ایک لاکھ لے لو‘ یہ رقم تمہارے تمام اندیشوں کے لیے کافی ہوگی۔‘‘
چوہدری کے چہرے پر نیاز مندانہ مسکراہٹ ابھری۔ ’’وقار صاحب آپ بھی کمال کے آدمی ہیں بس جو زبان سے نکال دیا پتھر کی لکیر ہوگیا‘ ٹھیک ہے!‘‘
الغرض چوہدری نے وقارملک سے ایک لاکھ روپے وصول کرکے شانو اس کے حوالے کردی اور وہ اگلے روز اسے کراچی لے آیا۔ کراچی کی اس شان دار کوٹھی میں شانو کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ قطعی ناقابل بیان ہے۔ مختصراً یہ کہ وقارملک ایک نہایت مکار‘ کمینہ اور بے رحم شخص تھا۔ وہ نہایت عیاش تھا۔ جس روز وہ اسے گائوں سے لے کر آیا تھا‘ اس روز واقعی اس نے شکار ہی تو کھیلا تھا۔ ذرا ذرا سی بات پر اسے پیٹنا‘ نشے میں دھت ہوکر اسے گالیاںدینا اور بھوکا پیاسا کمرے میں بند رکھنا‘ اس کا روز کا معمول تھا۔ اس نے شانو سے شادی نہیں کی تھی اور اسے قید کرکے رکھا ہوا تھا۔ شانو اسی قید میں رات رات بھر روتی تھی اورسارا سارا دن تڑپتی تھی۔ جس محبوب کے لیے اس نے اپنا سب کچھ قربان کردیا‘ اپنی زندگی عذاب بنالی تھی‘ پتا نہیں زندہ بھی تھا یا نہیں۔ صرف اس کی یاد میں آنسو بہاسکتی تھی یا اپنے چہرے اوربالوں پر اپنے گاؤں کی خاک تلاش کرسکتی تھی۔ خاک کے یہ ذرّے نگینوں کی طرح جگمگاتے تھے اور ہر ذرّہ ایک داستان سناتا تھا جو اس تاریک رات سے شروع ہوئی تھی۔ جب شانو کے شہباز کو کسی نے خون میں ڈبویا تھا اور وہ اس کی حالت پر تڑپ اٹھی تھی اور اس دشمن کو جہنم واصل کرنے کے لیے ہر خطرے سے بے نیاز ہوگئی تھی۔
اس کے بعد گائوں میں کیا ہوا تھا۔ اس کے ماں باپ کہاں تھے۔ اس کے بھائیوں کے ساتھ کیا ہوا۔ اس کا محبوب کہاںتھا۔ اس کو کچھ معلوم نہ تھا۔ ان سوالوں کے جواب اس سے ایسے ہی پوشیدہ تھے جیسے زندگی سے موت پوشیدہ ہوتی ہے۔
شانو کی روداد ختم ہوئی تو میز پر پڑے تمام ٹشوپیپرز اس کے آنسوئوں کی نذر ہوچکے تھے۔ میرے اعصاب مضمحل ہوگئے تھے اور سینے میں ایک الائو سا بھڑک رہا تھا۔ شام کا اندھیرا اس ہوٹل تک نہیں پہنچا لیکن بہرحال شام توہوچکی تھی۔
میں نے اپنے سامنے شانوکے روپ میں بے بسی کی اس تصویر کو غور سے دیکھا اور میرا دل کٹ کر رہ گیا۔ آج سے کچھ سال پہلے میں اس کی تیزی و طرّاری سے عاجز تھا۔اس کے حسین چہرے کو دیکھا کرتا تھا اور تنہائی میں بیٹھ کر خیالوں کے تانے بانے بنتا تھا مگر آج وقت بدل چکا تھا‘ وہ سکڑی‘ سمٹی‘ ڈری‘ سہمی رنج و اندوہ کی صورت بنی میرے سامنے بیٹھی تھی۔ میں مضبوط‘ طاقت ور اور صاحبِ اختیار تھا۔ آج اسے میری مدد کی ضرورت تھی اور میں اس کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ میں اس کاخاموش پرستار تھا‘ اس کے بچپن کا ساتھی تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس کے لیے بہت کچھ کرسکتا تھا شاید قدرت نے یہ سنہرا موقع مجھے اس لیے فراہم کیا تھا کہ میں شانو کی مدد کرکے بچپن کی حسین یادوں کو ایک خوب صورت انجام دے سکوں۔
میں نے بڑی محبت اور اپنائیت سے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میںلے لیا۔
’’شانو میں تیری مدد کروں گا۔‘‘
یکایک اس کے چہرے پر خوف کے سائے پھیل گئے اور اس کی سہمی آنکھیں مجھے میرا وعدہ یاد دلانے لگیں۔ میں نے کہا۔
’’دیکھو شانو! یہ خیال اپنے دل سے نکال دو کہ وقار ملک ناقابل تسخیریا ناقابل گرفت ہے۔‘‘
شانو نے بے قراری سے میری طرف دیکھا پھر بولی۔
’’یہ تم کیا کہہ رہے؟ خدا کی قسم! تُو وقار کے بارے میں کچھ نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے۔‘‘
میںنے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’اور تُو میرے بارے میں بھی نہیں جانتی کہ میں کیا ہوں؟‘‘
وہ شدید حیرت سے ایک ٹک میری طرف دیکھتی چلی گئی۔ اس کی آنکھوں میں مسرت کا ایک آنسو لرزا مگر اک خوف سے اس کے ملائم رخسار پر پھسلنے سے پہلے ہی اس کی آنکھوں میں کہیں جذب ہوگیا۔ وہ کبھی میرے چہرے کو دیکھتی اور کبھی میرے دعوے پر غور کرتی تھی۔ آخر خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولی۔
’’وقار ملک بہت خطرناک آدمی ہے۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’شانو میں نے سب انتظام کرلیا ہے‘ میں سب کچھ جانتا ہوں اتنے دنوں میں گھریلو ملازمین سے سب کچھ اُگلوالیا ہے۔ صرف ایک ڈیڑھ گھنٹے میں سب کچھ تمہارے سامنے آجائے گا۔‘‘
شانو ہونقوں کی طرح میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے ہاتھوں میں اس کے ہاتھ لرز کر رہ گئے تھے۔
میں نے کہا۔ ’’شانو میں پولیس انسپکٹر ہوں اور عنقریب ڈی ایس پی بننے والا ہوں۔قاتل اور ڈاکو میرے نام سے کانپتے ہیں اور چور اچکے تو مجھے دیکھتے ہی آدھے مرجاتے ہیں۔ ان چند برسوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔‘‘
شدید حیرت اس کی آنکھوں سے عیاں تھی‘ پھر کیسے اس بڑی مچھلی وقار ملک کو پکڑا گیا اور کیسے شانو کو اس سے آزاد کرایا گیا‘ یہ ایک لمبی کہانی ہے بہرحال شانو کو میں وقار ملک کی حبس بے جا سے آزاد کراکے اپنے گھر لے آیا۔ یہاں میں اپنے والدین کے ساتھ مقیم تھا۔ شانو اپنے والدین اور بھائیوں سے ملنے کے لیے بے قرار تھی ۔ مگر میں جانتا تھا کہ اب گائوں میں شانو کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس کے والد کا انتقال ہوچکا تھا اور دونوں بھائیوں کو کوئی ہمدرد شخص اپنے ساتھ دبئی لے گیا تھا۔ میں نے کوشش کی اور اس کی بوڑھی اور نیم پاگل والدہ کو کراچی لے آیا۔ اپنی بچھڑی ہوئی ماں سے مل کر شانو کے غموں کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا۔ اس دوران اسے گواہی کے سلسلے میں کئی بار عدالت میںجانا پڑا۔ میں نے کسی موقع پر اسے تنہائی یا بے چارگی کا احساس نہیں ہونے دیا۔
اب صورتِ حال یہ تھی کہ شانو کا مستقبل تاریک تھا۔ وہ خوب صورت اور جوان تھی۔ زندگی گزارنے کے لیے اسے کسی مضبوط سہارے کی ضرورت تھی۔ کئی بار میں تنہائی میں بیٹھتا اور شانو کاملیح چہرہ میری نگاہوں میں گھومتا تو وہ مجھے کیچڑ میں لتھڑا ہوا ایک پھول نظر آتی۔ کیچڑ نے اسے ڈھانپ رکھا تھا مگر اس کے رنگ اور خوش بُو سے کوسوںدور تھا۔ ایسے میں میرے دل میں یہ خواہش جاگتی کہ کیوں نامیں خود ہی اس سے شادی کرلوں۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد میں اپنے والدین کو مناسکتا تھا اور رہی میرے دل کی بات‘ تو وہ آج بھی شانو کو وہی کھلنڈری لڑکی سمجھتا تھا اور مجھے اس کے رخسار کی وہ نرم تپش آج بھی یاد تھی۔ جہاں تک شہباز کا تعلق تھا۔ اس کا اب کچھ علم نہیں تھا۔ زمانہ ہوا وہ ہمارا گائوں چھوڑ کر چلا گیا تھا.
گائوں میں اس کی حویلی بھی بند پڑی تھی۔میں یہ نہ سمجھ سکا کہ اس نے نہایت خاموشی سے گائوں کیوں چھوڑا۔ اسے زندگی کی ضرورت تھی اسی لیے وہ اس پُرخطر منظر سے ہٹ گیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں اب میرے لیے شانو کے حصول میں کوئی دشواری نہیں تھی بلکہ یہ سب کچھ اخلاقی تقاضوں کے عین مطابق تھا مگر ایک احساس مجھے پیش قدمی سے روک رہا تھا اور وہ یہ کہ شانو کی آنکھوں میں اب بھی شہباز کے نام کے دیئے روشن تھے۔ میں نے سنسان دوپہروں اور سرمئی شاموں میں اسے دور کہیں بہت دور کھوتے ہوئے پایا تھا۔
اچانک ایک روز میں نے سارے کام پس پشت ڈال کر شہباز کو ڈھونڈ نکالنے کا فیصلہ کرلیا۔ میں نے لمبی چھٹی لی اور شہباز کا سراغ لگانے میں مصروف ہوگیا۔ اس اسپتال میں گیا جہاں میری شہباز سے آخری ملاقات ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں میں نے بہت دوڑ دھوپ کی‘ اپنے تجربے اور تعلقات کو بھی استعمال کیا اور بالآخر بہار کی وہ مہکتی شام میرے لیے کامیابی کا پیغام لے کر آئی۔ ایک ایسی ہی مہکتی شام کو میں نے پہلی بار شہباز کو دیکھا تھا اور آج پھر میں اسے اسلام آباد کے ایک بنگلے میں دیکھ رہا تھا۔ وہ پہلے سے بہت کمزور اور پژمردہ دکھائی دیتا تھا۔ وہ مجھ سے بہت تپاک اور حیرت سے ملا۔ اس کے چہرے پہ کلہاڑی کا ایک پرانا گھائو تھا لیکن اس بدنمائی کے باوجود اس کی شخصیت کی خوب صورتی عیاںتھی۔
شام کے کھانے کے بعد میں نے شہباز سے پہلا سوال یہی کہا۔
’’آپ کی شادی تو نہیں ہوئی؟‘‘
’’ہوچکی ہے!‘‘ شہباز نے کہا۔
’’کس سے؟‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔
’’میری تنہائی سے!‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
’’میں نے سنا تھا کہ آپ کی شادی ہونے والی تھی؟‘‘ میں نے اطمینان کی سانس لیتے ہوئے کہا۔
’’وہ میرے چہرے کے اس بدنما داغ کے ساتھ مجھے قبول کرنے پر تیار نہیں ہوئی۔‘‘ وہ افسردگی سے بولا۔
میرے سینے سے اطمینان کی ایک طویل سانس نکلی۔ میںنے صوفے کی پشت گاہ سے ٹیک لگائی اور کمرے کی اس مدہم روشنی میں شہباز کو اس لڑکی کی کہانی سنانے لگا‘جس نے محبت پر اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا اور جو آج بھی اس کی راہ تک رہی تھی۔ جوں جوں کہانی آگے بڑھتی گئی شہباز کی آنکھیں بھیگتی چلی گئیں اور میرا یہ یقین گہرا ہوتا چلا گیا کہ محبت کے متوالوں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔
avatar
Senior Member
 Senior Member
Fine
User Title
Posts Posts : 217
Rep Points Rep Points : 257
Thanks Thanks : 1
Age Age : 23
150 / 999150 / 999
0 / 1500 / 150
Gender : Female
View user profile

default Re: اہلِ محبت…

on Fri Nov 04, 2011 10:39 am
both ache stori hai
avatar
Super Member
Super Member
Fine
User Title
Posts Posts : 616
Rep Points Rep Points : 852
Thanks Thanks : 8
Age Age : 27
150 / 999150 / 999
0 / 1500 / 150
Gender : Male
View user profile

default Re: اہلِ محبت…

on Sat Nov 12, 2011 7:19 am
Shukriya,, Thank You,, A happy smiley
avatar
New Member
New Member
User Title
Posts Posts : 2
Rep Points Rep Points : 2
Thanks Thanks : 0
Age Age : 30
150 / 999150 / 999
0 / 1500 / 150
Gender : Male
View user profile

default Re: اہلِ محبت…

on Thu Nov 24, 2011 6:20 am
very nice
avatar
Senior Member
 Senior Member
Cheerful
User Title
Posts Posts : 125
Rep Points Rep Points : 116
Thanks Thanks : 1
Age Age : 27
150 / 999150 / 999
0 / 1500 / 150
Gender : Male
View user profile

default Re: اہلِ محبت…

on Mon Nov 28, 2011 4:06 am
Thanks For Nice
Sharing.....
Sponsored content

default Re: اہلِ محبت…

View previous topicBack to topView next topic
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum