Presmurdu - Pakistani Urdu Forum | urdu shayari | Urdu Islam | Design Urdu PoetryLog in

Share

descriptiondefaultخدارا عورت کو یہ الزام نا دیں….

more_horiz
اسپتال میں وہیل چیئر پر بیٹھی گائنی وارڈ کی طرف جاتے ہوۓ وہ گھبراہٹ ، خوف ، مایوسی اور امید کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ جا رہی ہے. اسکے یہاں اوپر تلے پانچ بیٹیاں ہیں.ساس اور نندوں نے بیٹا نا ہونے کا طعنه دے دے کر اسکی زندگی اجیرن کر دی ہے. شوھر جو پہلے اسے دلاسا دیا کرتا تھا اب دبے لفظوں میں بیٹے کی خواھش کا اظہار کر رہا ہے. یہ دباؤ اس غریب عورت کی برداشت سے باہر ہوتا جا رہا ہے اور شاید اس زندگی پر ہمیشہ کے لئے اثر انداز ہونے جا رہا ہے جس نے ابھی جنم بھی نہیں لیا ہے.
یہ کہانی اگر ہر گھر کی نہیں تب بھی عام ضرور ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں اولاد نرینہ کی ایک خاص اہمیت ہے. ہر ماں اور باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ انکے یہاں کم از کم ایک بیٹا تو ضرور ہو.جو مرد حضرات بیٹیوں کو اللہ کی رحمت تصور کرتے ہیں وہ بھی اس خواھش سے دامن نہیں چھڑا پاتے. اس خواھش کے پیچھے دو بڑی وجوہات ہیں ایک کہ نسل چلتی رہے اور دوسری بڑھاپے میں انکا بیٹا انکا سہارا بنے. (چاہے بعد میں اسے کوستے ہوۓ یہ کہیں کہ ایسی اولاد نے تو بے اولاد ہی اچھے تھے ). صورتحال یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ پاگل پن کے شکار اس معاشرے میں عورت کو بیٹا نا ہونے کا مجرم قرار دے کر اس پر ذہنی اور جسمانی تشدد کیا جاتا ہے. حالانکہ طبّی طور پر یہ بات ایک ثابت شدہ سائنسی حقیقت ہے کہ اولاد کی جنس کا تعین صرف اور صرف باپ کی طرف سے ہوتا ہے. بیٹا نا ہونے کا اگر کوئی مجرم ہے تو وہ خود باپ ہے نا کہ ماں.اس پوسٹ کا خیال مجھے اس لئے آیا کہ میرے جاننے والوں کہ یہاں تیسری بیٹی کی ولادت ہوئی جب ان کو فون پر مبارکباد دی تو محسوس ہوا کہ وہ بہت زیادہ خوش نہیں ہیں، تو میں نے سوچا کہ یہ طبّی معلومات سب تک پہنچانا ضروری ہے. کچھ لوگ اس بات کا علم رکھتے ہیں تو بہت سارے لوگ ان طبّی حقائق سے لاعلم ہیں.
علم طب کو آسان الفاظ میں کبھی نا ختم ہونے ہونے والا علم کہا جاتا ہے. اس علم میں کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کی پورے علم یا اسکی کسی بھی شاخ پر مکمل دسترس ہے. جب آپ اپنے تئیں سب کچھ نا صرف پڑھ چکے ہوتے ہیں بلکہ ہضم بھی کر چکے ہوتے ہیں تب آپ پر انکشاف ہوتا ہے کہ بہت ساری چیزیں ابھی باقی ہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے. اسی لئے ہر وہ شخص جو چاہے کتنا ہی پڑھا لکھا کیوں نا ہو طبّی معلومات سمجھنا کسی معمہ سے کم نہیں ہوتا. اسی لئے میں کوشش کروں گا کہ آسان ترین الفاظ میں آپکو سمجھا سکوں.
خلیہ انسانی جسم کی ایک بنیادی اکائی ہے. انسانی جسم تقریباً ١٠٠ ٹریلین خلیات سے بنا ہوتا ہے.ہر خلیہ ٤٦ کروموسومز پر مشتمل ہوتا ہے.کروموسومز دھاگے کی طرح کا ایک اسٹرکچر ہوتا ہے جس میں جینیاتی مواد اور جینیاتی معلومات درج ہوتی ہیں. ان خلیات میں سے بہت سے خلیات بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں.
خلیات کے بننے کا عمل دو طرح سے ممکن ہے.( ١) mitosis ( ٢) meiosis
١) mitosis : بِالواسطہ تقسیم بِلاراست تَقسیم ۔ خُلیوں کی عام تقسیم ۔ خُلیَہ کی تَقسیم کا طَریقَہ جو غَیر تولیدی خُلیوں میں ہوتا ہے ۔ ایک سے دو خُلیے بَنتے ہَیں اور کَروموسوم کی تَعداد پہلی جَیسی ہی رہتی ہے. تقسیم سے قبل اس طریقہ میں کروموسومز کی تعداد دگنی ہو جاتی ہے. پھر یہ کروموسومز آدھے آدھے تقسیم ہوجاتے ہیں دو نئے اور مکمل خلیات میں .
٢) meiosis : تخفیفی انقسام جس میں کروموسومز کی تعداد پہلے نصف ہوجاتی ہے یعنی ٤٦ کی بجائے ٢٣ کروموسومز والے خلیہ میں تقسیم ہوتی ہے اور پھر وہ اپنے ہی جیسے مخالف جنس کے تخفیف شدہ یعنی نصف کروموسومز والے خلیہ سے مل کر ایک نیا خلیہ یعنی بار دار بیضہ ( zygot ) بنتا ہے. تولیدی عمل میں یہی meiosis کا عمل ہوتا ہے.
اس عمل میں مرد اور عورت دونوں کی جانب سے تئیس تئیس کروموسومز آپس میں ملتے ہیں. ان تئیس کروموسومز میں سے ایک کروموسوم ، جنس کا کروموسوم ہوتا ہے. جو بچہ کی جنس کا تعین کرتا ہے. لیکن اسکو سمجھنے کے لئے مرد اور عورت کے جنسی کروموسوم کا طرز سمجھنا ہوگا. جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ تمام خلیے ٤٦ کرومسومز رکھتے ہیں. یعنی کرموسومز کے تئیس جوڑے ہوتے ہیں. ان تئیس جوڑوں میں سے ایک جوڑا جنس کا ہوتا ہے. مرد میں اس کروموسوم کی طرز XY ہوتی ہے جبکہ عورت میں یہ طرز XX ہوتی ہے. یہ تمام جوڑے بشمول جنسی کروموسوم کے تولیدی خلیوں میں آدھے ہوجاتے ہیں. یعنی ٤٦ کروموسومز سے ٢٣ کروموسومز رہ جاتے ہیں. جو کہ جنسی عمل کے بعد مردانہ تولیدی خلیوں اور زنانہ تولیدی خلیوں کے ملاپ سے ایک نیا خلیہ بنتا ہے جسے بار بردار بیضہ یا zygot کہتے ہیں.اس تولیدی عمل میں جس طرح باقی کروموسومز کے جوڑے ٹوٹتے ہیں اسی طرح سے جنس کا کروموسوم بھی ٹوٹتا ہے یعنی عورت میں ایک X کروموسوم دوسرے X کروموسوم سے الگ ہوجاتا ہے یہ دونوں X کروموسومز دو مختلف انڈوں سے منسلک ہوجاتے ہیں. اسی طرح مرد میں X کروموسوم ، Y کرومسوم سے الگ ہوجاتا ہے اور دونوں کرموسومز الگ الگ تولیدی جوہروں (spermatozoa ) کے ساتھ منسلک ہوجاتے ہیں .جب تولیدی عمل میں مرد کا تولیدی جوھر جو y کروموسوم لئے ہوۓ ہوتا ہے عورت کہ X کروموسوم کے ساتھ ملتا ہے تو بچہ کی مردانہ جنس کا تعین کرتا ہے. لیکن اگر مرد کا ہی تولیدی جوھر X کروموسوم عورت کے
X کروموسوم کے ساتھ ملے گا تو بچہ کی جنس یقینی طور زنانہ ہوگی.
اس مختصر سی بحث سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ بچے کی جنس کے تعین میں عورت قطعی طور پر معذور ہے کیونکہ اس کے پاس صرف X کروموسوم ہے جو وہ تولیدی عمل میں شیئر کرسکتی ہے جبکہ مرد X کرومسوم اور y کروموسوم دونوں میں سے کسی ایک کو شیئر کرتا ہے لہٰذا اگر اولاد نرینہ نا ہونے کا کوئی ذمّہ دار ہے تو وہ صرف اور صرف مرد ہے. عورت اس معاملے میں قطعی طور سے معذور ہے. لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دین نے جو احکامات عورت سے حسن سلوک کے ضمن میں دیے ہیں ان پر عمل کیا جائے خدا کی رضا کے لئے بھی اور اس لئے بھی کہ جو عورت آپکے دکھ درد میں، بیماری میں ، نفع اور نقصان میں اور ہر اچھے برے وقت میں آپکا ساتھ دیتی ہے اسکو اس قصور کی سزا نا دی جائے جو سرے سے اسکا ہے ہی نہیں

descriptiondefaultRe: خدارا عورت کو یہ الزام نا دیں….

more_horiz
THANK 4 NICE SHARING
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum